حدیث نمبر: 535
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: "جَهَدْنَا بِإِبْرَاهِيمَ حَتَّى أَنْ نُجْلِسَهُ إِلَى سَارِيَةٍ، فَأَبَى".
محمد الیاس بن عبدالقادر
اعمش (سلیمان بن مہران) نے کہا: ہم نے امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کو مجبور کیا کہ انہیں ستون کے پاس بٹھا دیں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 529 سے 535)
یعنی انہیں کسی خاص جگہ بیٹھنے سے انکار تھا کہ یہ نہ کہا جائے کہ ابراہیم فلاں جگہ بیٹھتے تھے۔
یعنی انہیں کسی خاص جگہ بیٹھنے سے انکار تھا کہ یہ نہ کہا جائے کہ ابراہیم فلاں جگہ بیٹھتے تھے۔
حدیث نمبر: 536
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ"أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَسْتَنِدَ إِلَى السَّارِيَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مغیرہ بن مقسم سے مروی ہے کہ امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ ساریہ سے لگ کر بیٹھنا ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 537
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: "كَانَ إِبْرَاهِيمُ لَا يَبْتَدِئُ الْحَدِيثَ حَتَّى يُسْأَلَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مغیرہ بن مقسم نے کہا: امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کسی کے طلب کئے بنا حدیث بیان نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 538
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، قَالَ: كَانَ الْحَارِثُ بْنُ قَيْسٍ الْجُعْفِيُّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، وَكَانُوا مُعْجَبِينَ بِهِ،"فَكَانَ يَجْلِسُ إِلَيْهِ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ فَيُحَدِّثُهُمَا، فَإِذَا كَثُرُوا، قَامَ وَتَرَكَهُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
خیثمہ نے کہا: حارث بن قیس الجعفی جو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے تھے، اور لوگ ان پر فخر کیا کرتے تھے، ان کے پاس ایک یا دو آدمی بیٹھتے تو انہیں کوئی حدیث بیان کرنے لگتے تھے، پھر جب ان کی تعداد بڑھ جاتی تو کھڑے ہو کر چلے جاتے اور انہیں چھوڑ دیتے۔ (یعنی زیادہ لوگوں میں شہرت پانا انہیں پسند نہ تھا)۔
حدیث نمبر: 539
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قِيلَ لَهُ حِينَ مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَوْ قَعَدْتَ فَعَلَّمْتَ النَّاسَ السُّنَّةَ ؟، فَقَالَ: "أَتُرِيدُونَ أَنْ يُوطَأَ عَقِبِي ؟".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم سے مروی ہے جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو علقمہ (بن قیس) سے کہا گیا: کاش آپ (ابن مسعود کی جگہ) بیٹھیں اور لوگوں کو (ان کی طرح) سنت کی تعلیم دیں، کہا: کیا تم چاہتے ہو کہ میری ایڑی کچل دی جائے؟ (یعنی اپنے پیچھے آنے والوں سے میں فتنے میں پڑ جاؤں)۔
حدیث نمبر: 540
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ هَارُونَ بْنَ عَنْتَرَةَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ، قَالَ: أَتَيْنَا أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ لِنَتَحَدَّثَ إِلَيْهِ، فَلَمَّا قَامَ قُمْنَا، وَنَحْنُ نَمْشِي خَلْفَهُ، فَرَهَقَنَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَتَبِعَهُ فَضَرَبَهُ عُمَرُ بِالدِّرَّةِ، قَالَ: فَاتَّقَاهُ بِذِرَاعَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا نَصْنَعُ ؟، قَالَ: "أَوَ مَا تَرَى ؟ فِتْنَةً لِلْمَتْبُوعِ، مَذَلَّةً لِلتَّابِعِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سلیم بن حنظلہ نے کہا کہ ہم سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تاکہ بات چیت کریں، جب وہ کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہو گئے اور ان کے پیچھے چلنے لگے، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہم سے قریب ہوئے اور ابی رضی اللہ عنہ کے پیچھے جا کر انہیں درے سے ضرب لگائی۔ راوی نے کہا: جسے انہوں نے اپنی کلائی سے روکا، اور کہا: اے امیر المؤمنین! کیا کرتے ہو؟ فرمایا: دیکھتے نہیں (یہ لوگوں کا پیچھے چلنا) متبوع کے لئے فتنہ اور پیچھے چلنے والے کے لئے ذلت و رسوائی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 535 سے 540)
یعنی متبوع جس کے پیچھے چلا جا رہا ہے اس کے فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہے کہ دل میں بڑا پن اور ریاء نہ آ جائے۔
یعنی متبوع جس کے پیچھے چلا جا رہا ہے اس کے فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہے کہ دل میں بڑا پن اور ریاء نہ آ جائے۔
حدیث نمبر: 541
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: "كَانُوا يَكْرَهُونَ أَنْ تُوطَأَ أَعْقَابُهُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
منصور (بن المعتمر) سے مروی ہے کہ ابراہیم نے کہا: پیچھے پیچھے چلنے کو (اسلاف کرام) ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 542
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ بِسْطَامِ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ إِذَا مَشَى مَعَهُ الرَّجُلُ قَامَ، فَقَالَ: "أَلَكَ حَاجَةٌ ؟ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ، قَضَاهَا، وَإِنْ عَادَ يَمْشِي مَعَهُ قَامَ، فَقَالَ: أَلَكَ حَاجَةٌ ؟".
محمد الیاس بن عبدالقادر
بسطام بن مسلم نے کہا: امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کے پیچھے جب کوئی آدمی چلتا تو وہ کھڑے ہو جاتے اور فرماتے: تمہاری کوئی ضرورت ہے؟ اگر اس کی کوئی حاجت ہوتی تو پوری فرماتے، پھر بھی اگر وہ آپ کے پیچھے چلتا تو پوچھتے: کوئی اور حاجت ہے؟
وضاحت:
(تشریح احادیث 540 سے 542)
یعنی وہ اپنے پیچھے کسی کا چلنا پسند نہ کرتے تھے، یہ ان لوگوں کے لئے باعثِ نصیحت ہے جو چاہتے ہیں کہ لوگ ان کے آگے پیچھے حاشیہ برداری کریں۔
یعنی وہ اپنے پیچھے کسی کا چلنا پسند نہ کرتے تھے، یہ ان لوگوں کے لئے باعثِ نصیحت ہے جو چاہتے ہیں کہ لوگ ان کے آگے پیچھے حاشیہ برداری کریں۔
حدیث نمبر: 543
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "إِيَّاكُمْ أَنْ تُوطَأَ أَعْقَابُكُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوحمزہ سے مروی ہے ابراہیم نے کہا: اس سے ہوشیار رہو کہ تمہارے پیچھے چلا جائے۔ (یعنی اس سے بچنا کہ تمہارے نقشِ پا پر چلا جائے)۔
حدیث نمبر: 544
أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْهَيْثَمِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ أَنَّهُ رَأَى أُنَاسًا يَتْبَعُونَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْر، قَالَ: فَأُرَاهُ قَالَ: نَهَاهُمْ، وَقَالَ: "إِنَّ صَنِيعَكُمْ هَذَا أَوْ مَشْيَكُمْ هَذَا مَذَلَّةٌ لِلتَّابِعِ، وَفِتْنَةٌ لِلْمَتْبُوعِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عاصم بن ضمرہ سے مروی ہے کہ انہوں نے دیکھا کچھ لوگ سعید بن جبیر کے پیچھے چل رہے ہیں، راوی نے کہا: میرا خیال ہے عاصم نے کہا: انہوں نے انہیں اپنے پیچھے چلنے سے روکا اور فرمایا: تمہارا یہ فعل، یا کہا: تمہارا یہ میرے پیچھے چلنا متابعت کرنے والے کے لئے خواری ہے اور (متبوع) جس کے پیچھے چلا جا رہا ہے اس کے لئے فتنہ ہے۔
حدیث نمبر: 545
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ أَسْوَدَ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: "شَاوَرْتُ مُحَمَّدًا فِي بِنَاءٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبْنِيَهُ فِي الْكَلَّاءِ، قَالَ: فَأَشَارَ عَلَيَّ، وَقَالَ: إِذَا أَرَدْتَ أَسَاسَ الْبِنَاءِ فَآذِنِّي حَتَّى أَجِيءَ مَعَكَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، قَالَ: فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَمْشِي إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَمَشَى مَعَهُ، فَقَامَ، فَقَالَ: أَلَكَ حَاجَةٌ ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: أَمَّا لَا، فَاذْهَبْ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ: أَنْتَ أَيْضًا فَاذْهَبْ، قَالَ: فَذَهَبْتُ حَتَّى خَالَفْتُ الطَّرِيقَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن عون نے کہا: میں نے محمد (ابن سیرین رحمہ اللہ) سے کھیت میں گھر بنانے کے بارے میں مشورہ کیا، انہوں نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: جب تمہارا بنیاد رکھنے کا ارادہ ہو تو مجھے خبر کرنا، لہٰذا جب میں ان کے پاس آیا اور ہم دونوں چلنے لگے کہ اچانک ایک آدمی آیا اور ان کے پیچھے چلنے لگا، محمد رحمہ اللہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: تمہاری کوئی ضرورت ہے؟ اس نے کہا: نہیں، فرمایا: جب کوئی حاجت نہیں ہے تو جاؤ، پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جاؤ تم بھی جاؤ، لہٰذا میں بھی (انہیں چھوڑ کر) دوسرے راستے سے روانہ ہو گیا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 542 سے 545)
ان آثار سے معلوم ہوتا ہے اسلاف کرام شہرت سے اور اپنے پیچھے کسی کے چلنے سے احتیاط برتتے تھے کیوں کہ اپنے پیچھے شاگردوں یا متبعین کی بھیڑ دیکھ کر کبر و غرور کے فتنہ میں پڑنے کا اندیشہ بہت ہے۔
ان آثار سے معلوم ہوتا ہے اسلاف کرام شہرت سے اور اپنے پیچھے کسی کے چلنے سے احتیاط برتتے تھے کیوں کہ اپنے پیچھے شاگردوں یا متبعین کی بھیڑ دیکھ کر کبر و غرور کے فتنہ میں پڑنے کا اندیشہ بہت ہے۔
حدیث نمبر: 546
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ نُسَيْرٍ، أَنَّ الرَّبِيعَ كَانَ إِذَا أَتَوْهُ، يَقُولُ: "أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكُمْ"، يَعْنِي: أَصْحَابَهُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
نسیر (ابن ذعلوق) سے مروی ہے ربیع رحمہ اللہ کے پاس جب لوگ (ان کے شاگرد) آتے تو وہ کہتے تھے: میں تمہارے شر سے الله کی پناہ چاہتا ہوں۔
حدیث نمبر: 547
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ رَجَاءٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ وَهُوَ سَاكِتٌ، فَقِيلَ لَهُ: أَلَا تُحَدِّثُ أَصْحَابَكَ ؟، قَالَ: "أَخَافُ أَنْ أَقُولَ لَهُمْ مَا لَا أَفْعَلُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن بشر نے کہا: ہم سیدنا خباب بن الارت رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ان کے شاگرد ان کے پاس آئے اور وہ چپ بیٹھے رہے، کہا گیا: کیا آپ اپنے شاگردوں کو حدیث بیان نہیں کریں گے؟ فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ ایسی چیز ان سے بیان کر دوں جس پر خود عمل نہیں کرتا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 545 سے 547)
قول و عمل میں مطابقت ضروری ہے، اسی کے پیشِ نظر سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے احتیاط کیا کہ قول عمل کے خلاف نہ ہو۔
قول و عمل میں مطابقت ضروری ہے، اسی کے پیشِ نظر سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے احتیاط کیا کہ قول عمل کے خلاف نہ ہو۔
حدیث نمبر: 548
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، قَالَ: "وَدِدْتُ أَنِّي نَجَوْتُ مِنْ عَمَلِي كَفَافًا لَا لِي وَلَا عَلَيَّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
صالح (بن صالح بن حي) نے کہا: میں نے امام شعبی رحمہ اللہ کو کہتے سنا: میری آرزو ہے کاش میں اپنے علم میں برابر سرابر ہی چھوٹ جاؤں، نہ مجھے کچھ ملے (نہ مؤاخذہ ہو) نا گناہ کا مجھ پر بوجھ ہو۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 547)
ایسا شدتِ مؤاخذہ کے ڈر سے انہوں نے کہا: «﴿إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ﴾ [البروج: 12]» ترجمہ: ”بے شک تیرے رب کی پکڑ یقینا بہت سخت ہے۔
“
ایسا شدتِ مؤاخذہ کے ڈر سے انہوں نے کہا: «﴿إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ﴾ [البروج: 12]» ترجمہ: ”بے شک تیرے رب کی پکڑ یقینا بہت سخت ہے۔
“
حدیث نمبر: 549
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَمْشِي وَنَاسٌ يَطَئُونَ عَقِبَهُ، فَقَالَ: "لَا تَطَئُوا عَقِبِي، فَوَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أُغْلِقُ عَلَيْهِ بَابِي، مَا تَبِعَنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ لوگ ان کے پیچھے چلنے لگے، انہوں نے فرمایا: میرے پیچھے نہ چلو، قسم الله کی اگر تم جان لو کہ میں کس وجہ سے اپنا دروازہ بند کر لیتا ہوں تو تم میں سے کوئی آدمی میرے پیچھے نہ آئے۔
حدیث نمبر: 550
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: "فِتْنَةٌ لِلْمَتْبُوعِ، مَذَلَّةٌ لِلتَّابِعِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: جس کے پیچھے چلا جا رہا ہے اس کے لئے فتنہ اور پیچھے چلنے والے کے لئے ذلت و خواری ہے۔
حدیث نمبر: 551
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أُمَيٍّ، قَالَ: مَشَوْا خَلْفَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: "عَنِّي خَفْقَ نِعَالِكُمْ، فَإِنَّهَا مُفْسِدَةٌ لِقُلُوبِ نَوْكَى الرِّجَالِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
اُمی (بن ربیعہ) نے کہا: لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے چل رہے تھے، انہوں نے کہا: مجھ سے اپنے جوتوں کی چراہٹ دور رکھو، کیونکہ یہ بے وقوف و عاجز لوگوں کے دلوں کو خراب کر دینے والی (چیز) ہے۔
حدیث نمبر: 552
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: "إِنَّ خَفْقَ النِّعَالِ حَوْلَ الرِّجَالِ قَلَّ مَا يُلَبِّثُ الْحَمْقَى".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یزید بن حازم سے مروی ہے کہ میں نے امام حسن بصری رحمہ اللہ کو سنا، وہ فرماتے تھے: لوگوں کے پیچھے جوتے چرانا بے وقوفوں کو علم میں اضافے سے باز رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 553
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا قَاسِمُ هُوَ ابْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: "كَانَ إِذَا جَلَسَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ أَوْ الرَّجُلَانِ، قَامَ فَتَنَحَّى".
محمد الیاس بن عبدالقادر
لیث نے بیان کیا کہ امام طاؤوس رحمہ اللہ کے پاس جب ایک یا دو آدمی آ بیٹھتے تو وہ کھڑے ہو کر وہاں سے پرے ہٹ جاتے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 548 سے 553)
ان تمام روایات سے سلف صالحین کی تواضع اور خاکساری ظاہر ہوتی ہے، انہیں شہرت قطعاً پسند نہ تھی اسی لئے اپنے آگے پیچھے بھیڑ لگانا وہ پسند نہیں کرتے تھے۔
ان تمام روایات سے سلف صالحین کی تواضع اور خاکساری ظاہر ہوتی ہے، انہیں شہرت قطعاً پسند نہ تھی اسی لئے اپنے آگے پیچھے بھیڑ لگانا وہ پسند نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 554
أَخْبَرَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَعَنْ عِلْمِهِ مَا فَعَلَ بِهِ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَا أَنْفَقَهُ، وَعَنْ جِسْمِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی بھی بندے کے قدم (قیامت) کے دن نہ ہٹیں گے یہاں تک کہ اس سے پوچھ نہ لیا جاوے کہ اپنی عمر کس میں گزاری؟ اپنے علم پر کتنا عمل کیا؟ مال کہاں سے کمایا اور کس میں خرچ کیا؟ اور جسم کو کس (کام) میں لگایا؟“
حدیث نمبر: 555
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ، حَدَّثَنِي فُلَانٌ الْعُرَنِيُّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "لَا يَدَعُ اللَّهُ الْعِبَادَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّى يَسْأَلَهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَمَّا أَفْنَوْا فِيهِ أَعْمَارَهُمْ، وَعَمَّا أَبْلَوْا فِيهِ أَجْسَادَهُمْ، وَعَمَّا كَسَبُوا وفِيمَا أَنْفَقُوا، وَعَمَّا عَمِلُوا فِيمَا عَلِمُوا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: قیامت کے دن جب کہ لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے، اللہ تعالیٰ بندوں کو چار چیزیں پوچھنے سے پہلے نہیں چھوڑے گا۔ اپنی عمر کیسے گزاری؟ اپنے جسم کس کام میں استعال کئے؟ مال کیسے کمایا اور کس میں خرچ کیا؟ اور جو علم حاصل کیا اس پر عمل کتنا کیا؟
حدیث نمبر: 556
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَعَنْ جَسَدِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ، وَفِيمَا وَضَعَهُ، وَعَنْ عِلْمِهِ مَاذَا عَمِلَ فِيهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قیامت کے دن کسی بھی بندے کے قدم نہیں ہٹیں گے یہاں تک کہ اس سے چار چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے، اپنی عمر کس میں گنوائی؟ اپنے جسم کو کس میں لگایا؟ اپنا مال کیسے کمایا اور کہاں اس کو خرچ کیا؟ اور اپنے علم پر عمل کتنا کیا؟۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 553 سے 556)
ان روایات سے قیامت کے دن حساب کتاب اور پوچھ گچھ ثابت ہوتی ہے، نیز یہ کہ علم، عمر، جسم اور مال کے بارے میں حساب ہوگا، اس لئے ہر بندے کو ان چیزوں کا خیال رکھنا چاہئے، زندگی اچھے کاموں میں گزر رہی ہے یا نہیں؟ جسم و صحت کو اچھے کام میں لگایا یا نہیں؟ اور مال کہاں سے حاصل کیا، کہاں خرچ کیا؟ اچھے کاموں میں یا لہو و لعب اور منکرات و خواہش میں؟ الله تعالیٰ سب کو سمجھ اور عمل کی توفیق بخشے۔
آمین۔
ان روایات سے قیامت کے دن حساب کتاب اور پوچھ گچھ ثابت ہوتی ہے، نیز یہ کہ علم، عمر، جسم اور مال کے بارے میں حساب ہوگا، اس لئے ہر بندے کو ان چیزوں کا خیال رکھنا چاہئے، زندگی اچھے کاموں میں گزر رہی ہے یا نہیں؟ جسم و صحت کو اچھے کام میں لگایا یا نہیں؟ اور مال کہاں سے حاصل کیا، کہاں خرچ کیا؟ اچھے کاموں میں یا لہو و لعب اور منکرات و خواہش میں؟ الله تعالیٰ سب کو سمجھ اور عمل کی توفیق بخشے۔
آمین۔
حدیث نمبر: 557
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، قَالَ: قَالَ لِي طَاوُسٌ: "مَا تَعَلَّمْتَ، فَتَعَلَّمْ لِنَفْسِكَ، فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ ذَهَبَتْ مِنْهُمْ الْأَمَانَةُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
لیث بن ابی سلیم سے مروی ہے امام طاؤوس رحمہ اللہ نے مجھ سے کہا: تم نے جو علم سیکھا اسے اپنے لئے سیکھو کیونکہ لوگوں سے امانت اٹھ گئی ہے۔
حدیث نمبر: 558
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "أَدْرَكْتُ النَّاسَ وَالنَّاسِكُ إِذَا نَسَكَ لَمْ يُعْرَفْ مِنْ قِبَلِ مَنْطِقِهِ، وَلَكِنْ يُعْرَفُ مِنْ قِبَلِ عَمَلِهِ، فَذَلِكَ الْعِلْمُ النَّافِعُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عمارة بن مہران سے مروی ہے امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے ایسی جماعت کو پایا کہ ان میں کوئی عبادت گزار جب عبادت کرتا تو اس کی گفتگو سے اس کا پتہ نہیں لگ پاتا تھا، لیکن اپنے عمل سے وہ پہچان لئے جاتے، نفع بخش علم یہی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 556 سے 558)
یعنی جس علم کے ساتھ عمل ہو وہی فائدے مند ہے، نیز دکھاوا اور ریا و نمود عمل کو ضائع کر دیتے ہیں۔
یعنی جس علم کے ساتھ عمل ہو وہی فائدے مند ہے، نیز دکھاوا اور ریا و نمود عمل کو ضائع کر دیتے ہیں۔