حدیث نمبر: 500
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: "لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ، وَلَا أَكْتُبُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
وہب بن منبہ نے اپنے بھائی سے روایت کیا کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کوئی ایسا نہیں جس کے پاس آپ کی حدیث مجھ سے زیادہ ہو سوائے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے کیونکہ وہ لکھ لیا کرتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 501
أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ حِفْظَهُ، فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ، وَقَالُوا: تَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَاءِ ؟ فَأَمْسَكْتُ عَنْ الْكِتَابِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَوْمَأَ بِإِصْبَعِهِ إِلَى فِيهِ، وَقَالَ: "اكْتُبْ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا خَرَجَ مِنْهُ إِلَّا حَقٌّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ بھی سنتا حفظ کرنے کی غرض سے لکھ لیا کرتا تھا، پس قریش نے مجھے منع کیا اور کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ بھی سنتے ہو لکھ لیتے ہو، حالانکہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بھی بشر ہیں اور ناراضگی و خوشی میں کلام کرتے ہیں، چنانچہ میں نے لکھنا چھوڑ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”لکھو ! قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس سے حق و صداقت کے سوا کچھ نہیں نکلا ہے۔“
حدیث نمبر: 502
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَرْوِيَ مِنْ حَدِيثِكَ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَسْتَعِينَ بِكِتَابِ يَدِي مَعَ قَلْبِي إِنْ رَأَيْتَ ذَلِكَ ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ قَالَهُ: "عِ حَدِيثِي، ثُمَّ اسْتَعِنْ بِيَدِكَ مَعَ قَلْبِكَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کی حدیث روایت کرنا چاہتا ہوں، لہٰذا آپ مناسب خیال فرمائیں تو میرا ارادہ ہے کہ دل کے ساتھ اپنے ہاتھ کی کتابت سے بھی مدد لوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے میری حدیث کو اچھی طرح یاد کر لو پھر اپنے ہاتھ کی کتابت سے دل کے ساتھ مدد بھی لے لو۔“
حدیث نمبر: 503
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكْتُبُ إِذْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا: قُسْطَنْطِينِيَّةُ، أَوْ رُومِيَّةُ ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا، بَلْ مَدِينَةُ هِرَقْلَ أَوَّلًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوقبیل نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد بیٹھے لکھ رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: سب سے پہلے کون سا شہر فتح ہو گا، قسطنطنیہ یا رومیہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”نہیں، پہلے ہرقل کا شہر فتح کیا جائے گا۔“ (یعنی رومہ)۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 499 سے 503)
اس سے کتابتِ حدیث ثابت ہوتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی بھی صحیح ثابت ہوئی۔
اس سے کتابتِ حدیث ثابت ہوتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی بھی صحیح ثابت ہوئی۔
حدیث نمبر: 504
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي ضَمْرَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ الله إِلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ: "أَنْ اكْتُبْ إِلَيَّ بِمَا ثَبَتَ عِنْدَكَ مِنْ الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِحَدِيثِ عَمْرَةَ فَإِنِّي قَدْ خَشِيتُ دُرُوسَ الْعِلْمِ وَذَهَابَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن دینار نے کہا: عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ نے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم کو لکھا کہ آپ کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور عمرہ سے (مروی) جو ثابت شدہ حدیث موجود ہو، وہ ہمارے پاس لکھ بھیجئے کیونکہ میں علم کے مٹ جانے اور چلے جانے سے ڈرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 505
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ: "أَنْ انْظُرُوا حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاكْتُبُوهُ، فَإِنِّي قَدْ خِفْتُ دُرُوسَ الْعِلْمِ وَذَهَابَ أَهْلِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن دینار نے فرمایا کہ عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ نے اہل مدینہ کو لکھا کہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم تلاش کر کے اس کو لکھ لیں، مجھے علم کے مٹ جانے اور اہل علم کے ختم ہو جانے یا چلے جانے کا خوف ہے۔
حدیث نمبر: 506
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ: "يَعِيبُونَ عَلَيْنَا الْكِتَابَ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي فِي كِتَابٍ سورة طه آية 52".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوملیح (اسامہ بن عمیر) نے کہا: ہم کو لوگ کتابت کرنے کا عیب لگاتے ہیں، حالانکہ الله تعالیٰ کا فرمان ہے: «﴿ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي فِي كِتَابٍ ﴾» [طه: 52/20] یعنی ”اس کا علم میرے رب کے پاس مکتوب ہے۔“
حدیث نمبر: 507
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا سَوَادَةُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ أَبَا إِيَاسٍ، يَقُولُ: كَانَ يُقَالُ: "مَنْ لَمْ يَكْتُبْ عِلْمَهُ، لَمْ يُعَدَّ عِلْمُهُ عِلْمًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سواده بن حبان نے بیان کیا کہ میں نے ابوایاس معاویہ بن قرہ کو سنا، فرماتے تھے: جو اپنے علم کو قلم بند نہ کرے، اس کا علم علم نہیں رہے گا۔
حدیث نمبر: 508
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ: أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ لِبَنِيهِ: "يَا بَنِيَّ قَيِّدُوا هَذَا الْعِلْمَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن المثنی نے کہا: مجھ سے ثمامہ بن انس نے بیان کیا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں سے فرماتے تھے: بیٹو! اس علم کو قید کر لو، یعنی لکھ لیا کرو۔
حدیث نمبر: 509
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ، قَالَ: "رَأَيْتُ أَبَانَ يَكْتُبُ عِنْدَ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سَبُّورَةٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مسلم بن قیس العلوی نے کہا: میں نے ابان (ابن أبي عیاش) کو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس (بورڈ) تختی پر لکھتے دیکھا۔
حدیث نمبر: 510
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ كِتَابِ الْعِلْمِ، فَقَالَ: "لَا بَأْسَ بِذَلِكَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن بن جابر سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے علم کو لکھنے کی بابت سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا: اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 511
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ مَا أَسْمَعُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أُفَارِقَهُ، "أَتَيْتُهُ بِكِتَابِهِ، فَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ لَهُ: هَذَا سَمِعْتُ مِنْكَ ؟، قَالَ: نَعَمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
بشیر بن نہیک نے کہا: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے جو کچھ سنتا لکھ لیا کرتا تھا، جب میں ان سے رخصت ہونے لگا تو میں اپنا لکھا ہوا ان کے پاس لے گیا اور انہیں پڑھ کر سنایا اور عرض کیا کہ یہ ہی میں نے آپ سے سنا تھا، فرمایا: ٹھیک ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 503 سے 511)
اس میں کتابتِ حدیث پر رضامندی کا اظہار ہے۔
اس میں کتابتِ حدیث پر رضامندی کا اظہار ہے۔
حدیث نمبر: 512
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ أَسْمَعُ مِنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا "الْحَدِيثَ بِاللَّيْلِ فَأَكْتُبُهُ فِي وَاسِطَةِ الرَّحْلِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن جبیر نے کہا: میں سیدنا عبدالله بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے رات میں حدیث کا سماع کرتا اور کجاوے کے ہتھے پر لکھ لیا کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 513
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: "مَا يُرَغِّبُنِي فِي الْحَيَاةِ إِلَّا الصَّادِقَةُ وَالْوَهْطُ، فَأَمَّا الصَّادِقَةُ، فَصَحِيفَةٌ كَتَبْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا الْوَهْطُ، فَأَرْضٌ تَصَدَّقَ بِهَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُومُ عَلَيْهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے زندگی میں صادقہ اور وہط کے سوا کوئی چیز عزیز و مرغوب نہیں۔ «صادقه» احادیث کا مجموعہ اور وہ صحیفہ ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکھا اور «وهط» طائف کی وہ زمین تھی جس کو (والد محترم) عمرو بن العاص نے صدقہ کر دیا جس پر وہ کام کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 514
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عَمِّهْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، يَقُولُ: "قَيِّدُوا الْعِلْمَ بِالْكِتَابِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالملک بن عبداللہ بن ابی سفیان نے اپنے چچا عمرو بن ابی سفیان سے روایت کیا کہ انہوں نے سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے: علم کو کتابت کے ذریعہ قید کر لو۔
حدیث نمبر: 515
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الثَّقَفِيُّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ، قَالَ: "قَيِّدُوا هَذَا الْعِلْمَ بِالْكِتَابِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس علم کو کتابت کے ذریعہ قید کر لو۔
حدیث نمبر: 516
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: "كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ لَيْلًا، وَكَانَ يُحَدِّثُنِي بِالْحَدِيثِ فَأَكْتُبُهُ فِي وَاسِطَةِ الرَّحْلِ حَتَّى أُصْبِحَ فَأَكْتُبَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عثمان بن حکیم نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن جبیر کو کہتے سنا کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ہمراہ مکہ کے راستے میں چل رہا تھا اور وہ جو بھی حدیث بیان کرتے تو میں کجاوے کے ہتھے پر اسے لکھ لیتا تاکہ صبح کو (کاپی میں) لکھ لوں۔
حدیث نمبر: 517
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، عَنْ يَعْقُوبَ الْقُمِّيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: "كُنْتُ أَكْتُبُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي صَحِيفَةٍ، وَأَكْتُبُ فِي نَعْلَيَّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن جبیر نے کہا میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس صحیفہ میں لکھتا تھا اور کچھ نہیں تو جوتے پر بھی لکھ لیتا۔
حدیث نمبر: 518
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: "كُنْتُ أَجْلِسُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَكْتُبُ فِي الصَّحِيفَةِ حَتَّى تَمْتَلِئَ، ثُمَّ أَقْلِبُ نَعْلَيَّ فَأَكْتُبُ فِي ظُهُورِهِمَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن جبیر نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھتا تھا اور صحیفہ میں لکھتا یہاں تک کہ وہ بھر جاتا تو میں اپنے جوتے الٹتا اور ان کے تلے میں لکھ لیتا۔
حدیث نمبر: 519
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلٌ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ، قَالَ: "رَأَيْتُهُمْ يَكْتُبُونَ التَّفْسِيرَ عِنْدَ مُجَاهِدٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبید (بن مہران) مُکتِب نے کہا: میں نے لوگوں کو دیکھا وہ مجاہد سے تفسیر لکھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 520
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنَشٍ، قَالَ: "رَأَيْتُهُمْ يَكْتُبُونَ عِنْدَ الْبَرَاءِ بِأَطْرَافِ الْقَصَبِ عَلَى أَكُفِّهِمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن حنش نے کہا: میں نے لوگوں کو سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما کے پاس سرکنڈوں کے کنارے سے اپنے ہاتھ پر لکھتے دیکھا۔
حدیث نمبر: 521
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ بِحَدِيثٍ، فَقُلْتُ: أَكْتُبُهُ عَنْكَ ؟، قَالَ: "فَرَخَّصَ لِي وَلَمْ يَكَدْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ہارون بن عنترہ سے مروی ہے ان کے والد نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ کو ایک حدیث بیان کی، میں نے عرض کیا: میں اس کو آپ سے لکھ لوں؟ انہوں نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ کو اس کی اجازت دے دی اور روکا نہیں۔
حدیث نمبر: 522
أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي السَّائِبِ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: كَتَبَ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ إِلَى عَامِلِهِ أَنْ يَسْأَلَنِي عَنْ حَدِيثٍ، قَالَ رَجَاءٌ: "فَكُنْتُ قَدْ نَسِيتُهُ لَوْلَا أَنَّهُ كَانَ عِنْدِي مَكْتُوبًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
رجاء بن حیوہ نے بیان کرتے ہوئے فرمایا: ہشام بن عبدالملک نے اپنے گورنر کو لکھا کہ وہ مجھ سے ایک حدیث کے بارے میں دریافت کرے، رجاء نے کہا: اگر وہ میرے پاس لکھی نہ ہوتی تو میں اس کو بھول گیا تھا۔
حدیث نمبر: 523
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، قَالَ: "كَانَ يُسْأَلُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، وَيُكْتَبُ مَا يُجِيبَ فِيهِ بَيْنَ يَدَيْهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ہشام بن غاز نے کہا کہ وہ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے سوال کرتے تھے اور وہ جو جواب دیتے اسے ان کے سامنے لکھ لیتے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 511 سے 523)
اس سے بھی کتابت اور لکھنے کی اجازت اور رضامندی ظاہر ہوتی ہے۔
اس سے بھی کتابت اور لکھنے کی اجازت اور رضامندی ظاہر ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 524
أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي السَّائِبِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى"أَنَّهُ رَأَى نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، يُمْلِي عِلْمَهُ، وَيُكْتَبُ بَيْنَ يَدَيْهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سلیمان بن موسیٰ نے نافع مولى سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ اپنے علم کو املاء کراتے تھے اور وہ (یعنی سلیمان) ان کے سامنے لکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 525
أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: "كَانَ سُفْيَانُ يَكْتُبُ الْحَدِيثَ بِاللَّيْلِ فِي الْحَائِطِ، فَإِذَا أَصْبَحَ نَسَخَهُ ثُمَّ حَكَّهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مبارک بن سعید نے بیان کیا: سفیان رات میں دیوار پر حدیث لکھ لیتے تھے اور جب صبح ہوتی تو اس کو نسخ کر لیتے اور جو دیوار پر لکھا تھا اسے کھرچ دیتے۔
حدیث نمبر: 526
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو غِفَارٍ الْمُثَنَّى بْنُ سَعْيدٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: حَدَّثَنِي فُلَانٌ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفَهُ عُمَرُ، قُلْتُ: حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْعَفَافَ وَالْعِيَّ عِيَّ اللِّسَانِ لَا عِيَّ الْقَلْبِ وَالْفِقْهَ مِنْ الْإِيمَانِ، وَهُنَّ مِمَّا يَزِدْنَ فِي الْآخِرَةِ، وَيُنْقِصْنَ مِنْ الدُّنْيَا، وَمَا يَزِدْنَ فِي الْآخِرَةِ أَكْثَرُ، وَإِنَّ الْبَذَاءَ وَالْجَفَاءَ وَالشُّحَّ مِنْ النِّفَاقِ، وَهُنَّ مِمَّا يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا، وَيُنْقِصْنَ فِي الْآخِرَةِ، وَمَا يُنْقِصْنَ فِي الْآخِرَةِ أَكْثَرُ" . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
عون بن عبداللہ نے بیان کیا کہ میں نے عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ سے کہا: فلاں صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حدیث بیان کی، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے انہیں پہچان لیا، میں نے عرض کیا: انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ”یقیناً حیا، پاکبازی اور دل کی عاجزی نہیں بلکہ زبان کی عاجزی اور فقہ و تدبر ایمان میں سے ہیں، اور یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو آخرت کے اعمال میں اضافہ کرتی ہیں، اور دنیا کے افعال میں کمی کرتی ہیں، اور آخرت میں جو اضافہ کرتی ہیں وہ بہت زیادہ ہے۔ اور یقیناً بےہودگی، بدسلوکی اور بخیلی نفاق میں سے ہیں، اور یہ سب ان چیزوں میں سے ہیں جو دنیا میں اضافہ کرتی ہیں، لیکن آخرت میں کمی کرتی ہیں، اور جو آخرت میں کمی ہوتی ہے وہ بہت زیادہ ہے۔“
حدیث نمبر: 527
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ، وَمَعَهُ قِرْطَاسٌ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا لِصَلَاةِ الْعَصْرِ، وَهُوَ مَعَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا هَذَا الْكِتَابُ ؟، قَالَ: "هَذَا حَدِيثٌ حَدَّثَنِي بِهِ عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَأَعْجَبَنِي فَكَتَبْتُهُ"، فَإِذَا فِيهِ هَذَا الْحَدِيثُ ..
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوقلابہ نے کہا: عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نماز ظہر کے لئے نکل کر آئے اور ان کے ساتھ ایک کاغذ تھا، پھر جب نماز عصر کے لئے تشریف لائے تو اس وقت بھی وہ کاغذ ان کے ساتھ تھا، لہٰذا میں نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! یہ کیسی کتاب ہے؟ فرمایا: یہ وہ حدیث ہے جو عون بن عبداللہ نے مجھ سے بیان کی، مجھے پسند آئی تو میں نے لکھ لی، دیکھا تو وہی حدیث لکھی تھی۔ یعنی مذکور بالا حدیث۔
حدیث نمبر: 528
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا مَسْعُودٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ أَبِي سَعْدٍ، قَالَ: دَعَا الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَنِيهِ وَبَنِي أَخِيهِ، فَقَالَ: "يَا بَنِيَّ وَبَنِي أَخِي، إِنَّكُمْ صِغَارُ قَوْمٍ يُوشِكُ أَنْ تَكُونُوا كِبَارَ آخَرِينَ، فَتَعَلَّمُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ أَنْ يَرْوِيَهُ، أَوْ قَالَ: يَحْفَظَهُ فَلْيَكْتُبْهُ، وَلْيَضَعْهُ فِي بَيْتِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
شرحبیل بن سعد نے کہا کہ حسن نے اپنے بیٹے اور بھتیجوں کو بلایا اور فرمایا: میرے اور میرے بھائی کے بیٹو! تم خاندان کے چھوٹے ہو اور قریب ہی بڑوں میں شمار ہو گے، لہٰذا علم حاصل کرو، اور تم میں سے جو روایت و حفظ کی استطاعت نہ پائے وہ اس کو لکھے اور اپنے گھر میں رکھ لے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 523 سے 528)
ان تمام روایات سے احادیث یا علمی باتیں لکھ لینے کی ترغیب و اجازت اور اہمیت ثابت ہوتی ہے، اور صحابہ کرام و تابعین سے کتابتِ حدیث کی کراہت یا ناپسندیدگی اس وقت کے لئے تھی جب قرآن کریم اور احادیث شریفہ کے خلط ملط ہونے کا خدشہ تھا، خود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابتِ حدیث سے منع فرمایا، لیکن بعد میں اجازت دے دی تھی، جیسا کہ مختلف احادیث میں گزر چکا ہے، لہٰذا آج کے زمانے میں جب کہ قرآن و حدیث مدون ہیں حدیث لکھنے یا دروس اور نوٹس بنانے یا لکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس باب کی احادیث، آثار و اقوالِ صحابہ و تابعین سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔
ان تمام روایات سے احادیث یا علمی باتیں لکھ لینے کی ترغیب و اجازت اور اہمیت ثابت ہوتی ہے، اور صحابہ کرام و تابعین سے کتابتِ حدیث کی کراہت یا ناپسندیدگی اس وقت کے لئے تھی جب قرآن کریم اور احادیث شریفہ کے خلط ملط ہونے کا خدشہ تھا، خود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابتِ حدیث سے منع فرمایا، لیکن بعد میں اجازت دے دی تھی، جیسا کہ مختلف احادیث میں گزر چکا ہے، لہٰذا آج کے زمانے میں جب کہ قرآن و حدیث مدون ہیں حدیث لکھنے یا دروس اور نوٹس بنانے یا لکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس باب کی احادیث، آثار و اقوالِ صحابہ و تابعین سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔