حدیث نمبر: 428
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: قُلْتُ لِطَاوُسٍ: إِنَّ فُلَانًا حَدَّثَنِي بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: "إِنْ كَانَ صَاحِبُكَ مَلِيًّا، فَخُذْ عَنْهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سلیمان بن موسیٰ نے کہا: میں نے امام طاؤوس رحمہ اللہ سے کہا: فلاں آدمی نے اس اس طرح مجھے حدیث بیان کی، فرمایا: تمہارے یہ حدیث بیان کرنے والے (حدیث کے) غنی ہیں تو ان کی روایت لے لو۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 427)
یعنی وہ احادیث شریفہ کا علم رکھتے ہیں اور اس سے مالا مال ہیں تو ان سے حدیث لے سکتے ہیں۔
یعنی وہ احادیث شریفہ کا علم رکھتے ہیں اور اس سے مالا مال ہیں تو ان سے حدیث لے سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 429
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: "لَا يُحَدِّثْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ إِلَّا الثِّقَاتُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعد بن ابراہیم نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثقات راوی ہی حدیث روایت کرتے ہیں۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 428)
مذکورہ بالا اثر میں اس بات کی ترغیب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت اور حدیث بیان کرنے والا ثقہ ہونا چاہیے، جس طرح حدیث میں ہے: «لَا يَحْمِلْ هٰذَا الْعِلْمَ إِلَّا عُدُوُ لَهُ (أو كما قال عليه السلام)» ۔
مذکورہ بالا اثر میں اس بات کی ترغیب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت اور حدیث بیان کرنے والا ثقہ ہونا چاہیے، جس طرح حدیث میں ہے: «لَا يَحْمِلْ هٰذَا الْعِلْمَ إِلَّا عُدُوُ لَهُ (أو كما قال عليه السلام)» ۔
حدیث نمبر: 430
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: "كَانُوا لَا يَسْأَلُونَ عَنْ الْإِسْنَادِ، ثُمَّ سَأَلُوا بَعْدُ لِيَعْرِفُوا مَنْ كَانَ صَاحِبَ سُنَّةٍ أَخَذُوا عَنْهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبَ سُنَّةٍ، لَمْ يَأْخُذُوا عَنْهُ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: مَا أَظُنُّهُ سَمِعَهُ مِنْ عَاصِمٍ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگ پہلے اسناد کے بارے میں سوال نہیں کرتے تھے، پھر سوال کرنے لگے (یعنی پوچھنے لگے کہ راوی کون اور کیسا ہے)، جو صاحب سنت ہوتا اس سے حدیث لے لیتے، اور جو صاحب سنت نہ ہوتا اس سے حدیث نہیں لیتے تھے۔ امام دارمی نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا کہ جریر نے عاصم سے اسے سنا ہو گا۔
حدیث نمبر: 431
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ: "مَا حَدَّثْتَنِي، فَلَا تُحَدِّثْنِي عَنْ رَجُلَيْنِ، فَإِنَّهُمَا لَا يُبَالِيَانِ عَمَّنْ أَخَذَا حَدِيثَهُمَا"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد عَبْدُ اللَّهِ: لَا أَظُنُّهُ سَمِعَهُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: جو حدیث تم نے مجھ سے بیان کی، اب ان دو آدمیوں کے طریق سے بیان نہ کرنا کیونکہ یہ دونوں اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ حدیث کس سے لے رہے ہیں۔ امام دارمی نے فرمایا: مجھے یقین نہیں کہ جریر نے عاصم سے یہ سنا ہو۔
حدیث نمبر: 432
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، قَالَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ: "إِذَا حَدَّثْتَنِي، فَحَدِّثْنِي، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي بِحَدِيثٍ ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِسَنَةٍ فَمَا خَرَمَ مِنْهُ حَرْفًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب تم مجھ سے حدیث بیان کرو تو ابوزرعۃ رحمہ اللہ کے طریق سے بیان کرو، اس لئے کہ انہوں نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی، پھر میں نے ایک سال کے بعد ان سے اسی حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اس میں ایک حرف کی بھی کمی نہیں کی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 429 سے 432)
یعنی من وعن ویسی ہی بیان کر دی، اس سے ابوزرعہ رحمہ اللہ کے حفظ و اتقان کا پتہ چلتا ہے۔
یعنی من وعن ویسی ہی بیان کر دی، اس سے ابوزرعہ رحمہ اللہ کے حفظ و اتقان کا پتہ چلتا ہے۔
حدیث نمبر: 433
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: "إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ فَلْيَنْظُرْ الرَّجُلُ عَمَّنْ يَأْخُذُ دِينَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ علم (حدیث) دین ہے، آدمی کو خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اپنا دین کیسے آدمی سے لے رہا ہے۔
حدیث نمبر: 434
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "كَانُوا إِذَا أَتَوْا الرَّجُلَ لِيَأْخُذُوا عَنْهُ، نَظَرُوا إِلَى صَلَاتِهِ، وَإِلَى سَمْتِهِ، وَإِلَى هَيْئَتِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: (سلف صالحین) جب کسی کے پاس علم حدیث لینے جاتے تو اس کی نماز، طور طریقہ اور ہیئت کو غور سے دیکھتے تھے۔ پھر اس سے حدیث لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 435
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "كَانُوا إِذَا أَتَوْا الرَّجُلَ يَأْخُذُونَ عَنْهُ الْعِلْمَ، نَظَرُوا إِلَى صَلَاتِهِ، وَإِلَى سَمْتِهِ، وَإِلَى هَيْئَتِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُونَ عَنْهُ" . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب وہ (یعنی سلف صالحین) کسی ایسے آدمی کے پاس آتے جس سے علم لینا ہوتا تو اس کی نماز، چال چلن، صورت شکل دیکھتے، پھر اس سے علم اخذ کرتے۔
حدیث نمبر: 436
أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ رَوْحٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ ..
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن بصری رحمہ اللہ نے بھی ابراہیم رحمہ اللہ کی طرح بیان کیا۔
حدیث نمبر: 437
أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: "كُنَّا نَأْتِي الرَّجُلَ لِنَأْخُذَ عَنْهُ، فَنَنْظُرُ إِذَا صَلَّى، فَإِنْ أَحْسَنَهَا، جَلَسْنَا إِلَيْهِ وَقُلْنَا: هُوَ لِغَيْرِهَا أَحْسَنُ، وَإِنْ أَسَاءَهَا، قُمْنَا عَنْهُ وَقُلْنَا: هُوَ لِغَيْرِهَا أَسْوَأُ"، قَالَ أَبُو مَعْمَرٍ: لَفْظُهُ نَحْوُ هَذَا.
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالعالیہ نے فرمایا کہ: ہم آدمی کے پاس جاتے تھے کہ اس سے روایت لیں، تو جب وہ نماز پڑھتا ہم دیکھتے تھے، اگر ٹھیک طرح سے نماز پڑھی ہے تو بیٹھ جاتے اور کہتے وہ نماز کے علاوہ (اعمال) میں بھی اچھا ہو گا، اور اگر اچھی طرح نماز نہیں پڑھتا تو اس کے پاس سے اٹھ آتے اور کہتے وہ نماز کے علاوہ میں اور زیادہ خراب ہو گا۔ ابومعمر نے کہا: اس کے لفظ اسی طرح ہیں۔
حدیث نمبر: 438
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: لَا أَدْرِي سَمِعْتُهُ مِنْهُ، أَوْ لَابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ"إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ، فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ علم (علم اسناد الحديث) دین ہے، تو تم دیکھو کیسے آدمی سے اپنا دین حاصل کر رہے ہو۔
حدیث نمبر: 439
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: قُلْتُ لِطَاوُسٍ: إِنَّ فُلَانًا حَدَّثَنِي بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: "فَإِنْ كَانَ صَاحِبُكَ مَلِيًّا، فَخُذْ عَنْهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سلیمان بن موسیٰ نے کہا: میں نے امام طاؤوس رحمہ اللہ سے کہا کہ فلاں آدمی نے اس طرح سے حدیث بیان کی، انہوں نے فرمایا: اگر تمہارا یہ حدیث بیان کرنے والا غنی ہے تو اس سے روایت لے لو۔
حدیث نمبر: 440
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: جَاءَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَعِدْ عَلَيَّ الْحَدِيثَ الْأَوَّلَ، قَالَ لَهُ بُشَيْرٌ: مَا أَدْرِي عَرَفْتَ حَدِيثِي كُلَّهُ وَأَنْكَرْتَ هَذَا، أَوْ عَرَفْتَ هَذَا وَأَنْكَرْتَ حَدِيثِي كُلَّهُ ؟، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: "إِنَّا كُنَّا نُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ لَمْ يَكُنْ يُكْذَبُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَكِبَ النَّاسُ الصَّعْبَة وَالذَّلُولَ تَرَكْنَا الْحَدِيثَ عَنْهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام طاؤوس رحمہ اللہ نے کہا: بشیر بن کعب سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور حدیث بیان کرنے لگے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پہلی حدیث مجھے دوبارہ سناؤ، بشیر نے ان سے کہا: پتہ نہیں آپ نے میری تمام احادیث کو صحیح جانا اور پہلی حدیث پر انکار کیا، یا اس پہلی حدیث کو صحیح سمجھا اور باقی کو صحیح نہیں جانا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت حدیث بیان کرتے تھے جس وقت آپ پر جھوٹ نہیں بولا جاتا تھا، پھر جب لوگ نرم و گرم میں پڑ گئے (یعنی جھوٹ سچ میں) تو ہم نے آپ سے روایت حدیث ترک کر دی۔ (یعنی جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرنا شروع کر دیا تو ہم احتیاط کرنے لگے اور کہنے والے کے بارے میں چھان بین ہونے لگی)۔
حدیث نمبر: 441
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "كُنَّا نَحْفَظُ الْحَدِيثَ، وَالْحَدِيثُ يُحْفَظُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَكِبْتُمْ الصَّعْبَة وَالذَّلُولَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم حدیث یاد کرتے تھے تا آنکہ تم نے اس میں ملاوٹ کر دی، اور حدیث تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 442
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "يُوشِكُ أَنْ يَظْهَرَ شَيَاطِينُ قَدْ أَوْثَقَهَا سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلامُ يُفَقِّهُونَ النَّاسَ فِي الدِّينِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: قریب ہے کہ شیاطین ظہور پذیر ہوں، جنہیں سلیمان علیہ السلام نے باندھ رکھا تھا، جو لوگوں کو دین کی سمجھ اور فقہ سکھائیں گے۔
حدیث نمبر: 443
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: "انْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ هَذَا الْحَدِيثَ، فَإِنَّهُ دِينُكُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: خیال رکھو کہ تم یہ حدیث کس سے یا کیسے آدمی سے لے رہے ہو، کیونکہ یہی تمہارا دین ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 432 سے 443)
ان تمام آثار سے معلوم ہوا کہ علم الحدیث والاسانید اصل دین ہے جس کا اہتمام ضروری ہے۔
اور محدّثین کرام رحمہم اللہ روایتِ حدیث میں بہت باریک بینی اور احتیاط سے کام لیتے ہیں۔
ان تمام آثار سے معلوم ہوا کہ علم الحدیث والاسانید اصل دین ہے جس کا اہتمام ضروری ہے۔
اور محدّثین کرام رحمہم اللہ روایتِ حدیث میں بہت باریک بینی اور احتیاط سے کام لیتے ہیں۔