کتب حدیثسنن دارميابوابباب: علمائے کرام کی تعظیم و توقیر کا بیان
حدیث نمبر: 421
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ بَقِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: "مَا خِفْتُ أَحَدًا مِنْ النَّاسِ مَخَافَتِي خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حبیب بن صالح نے فرمایا: لوگوں میں خالد بن معدان سے زیادہ کسی سے میں نے خوف نہیں کھایا۔ (یعنی ان کے علم کی وجہ سے رعب طاری رہتا تھا)۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 421
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 421]» ¤ اس روایت کی سند صحیح ہے، بقیہ مدلس ہیں، لیکن حدثنی سے تصریح کی ہے لہٰذا درست ہے۔
حدیث نمبر: 422
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: "كُنَّا نَهَابُ إِبْرَاهِيمَ هَيْبَةَ الْأَمِيرِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مغیرہ بن مقسم نے کہا: ہم امام ابراہیم نخعی سے امیر و گورنر کی طرح ڈرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 422
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 422]» ¤ اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ المعرفة للفسوي 604/2] ، [الجامع لأخلاق الراوي 297]
حدیث نمبر: 423
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ يَوْمًا بِحَدِيثٍ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَاسْتَعَدْتُهُ، فَقَالَ لِي: "مَا كُلَّ سَاعَةٍ أَحْلُبُ فَأُشْرَبُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ایوب (السختیانی) نے کہا: سعید بن جبیر نے ایک دن ایک حدیث بیان کی تو میں نے کھڑے ہو کر عرض کیا: دو بار دہرا دیجئے، فرمایا: میں نہ ہر گھڑی دودھ نکالتا ہوں اور نہ پیتا ہوں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 416 سے 423)
یعنی ہر وقت ایسا نہیں ہوتا کہ تم کوئی چیز طلب کرو اور وہ تمہیں مل ہی جائے، اس لئے موقع غنیمت سمجھ کر اس سے فائدہ اٹھایا کرو اور اس میں بے پرواہی نہ کرو۔
«مَا كُلُّ سَاعَةٍ أَحْلُبُ» یہ مثل ہے، اس کا معنی و مطلب بیان کر دیا گیا۔
دیکھئے: [مجمع الأمثال للميداني 190/2]۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 423
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 423]» ¤ اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6688] ، [المحدث الفاصل 780] ، [الجامع 974]
حدیث نمبر: 424
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا هَارُونُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ، وَيَحْيَى بْنُ ضُرَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ "أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَرِهَ الْحَدِيثَ فِي الطَّرِيقِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء بن السائب نے کہا: ابوعبدالرحمٰن نے راستہ چلتے حدیث بیان کرنا ناپسند فرمایا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 424
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: في إسناده علتان: ضعف محمد بن حميد وسماع عمرو بن أبي قيس متأخر من عطاء
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده علتان: ضعف محمد بن حميد وسماع عمرو بن أبي قيس متأخر من عطاء، [مكتبه الشامله نمبر: 424]» ¤ اس روایت کی سند ضعیف ہے، خطیب نے الجامع میں دوسری سند سے بھی یہ روایت ذکر کی ہے، جس کا لفظ ہے: «”كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُسْأَلَ وَهُوَ يَمْشِيْ“» دیکھئے: [الجامع 395]
حدیث نمبر: 425
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ ضُرَيْسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَحَدَّثَ بِحَدِيثٍ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا أَوْ مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا ؟"فَغَضِبَ وَمَنَعَنَا حَدِيثَهُ حَتَّى قَامَ ؟".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حبیب بن ثابت نے کہا کہ ہم سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے پاس تھے کہ انہوں نے ایک حدیث بیان کی تو ایک آدمی نے ان سے عرض کیا: آپ سے کسی نے یہ حدیث بیان کی؟ یا یہ کس سے آپ نے سنی؟ تو سعید رحمہ اللہ ناراض ہو گئے اور ہم کو اس سے بات کرنے سے روک دیا، یہاں تک کہ وہ اٹھ کر چلا گیا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 425
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 425]» ¤ اس قول کی سند جید ہے، «وانفرد به الدارمي»۔
حدیث نمبر: 426
أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: "لَوْ رَفَقْتُ بِابْنِ عَبَّاسٍ لَأَصَبْتُ مِنْهُ عِلْمًا كَثِيرًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوسلمہ نے کہا: کاش میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رفاقت اختیار کی ہوتی تو ان کے علم کا وافر حصہ حاصل کر لیا ہوتا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 426
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 426]» ¤ اس قول کی سند صحیح ہے، اور ابوسلمہ: ابن عبدالرحمٰن بن عوف ہیں۔ دیکھئے: [المعرفة 559/1] ، [الجامع 385] ، [جامع بيان العلم 156/1] ، نیز روایت رقم (587)۔
حدیث نمبر: 427
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ بِنْتِ خَالِدٍ، قَالَتْ: "مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْرَمَ لِلْعِلْمِ مِنْ أَبِي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ام عبدالله بنت خالد نے کہا کہ میں نے اپنے باپ سے زیادہ علم کی توقیر کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 423 سے 427)
ان تمام روایات سے علماء کا وقار و ہیت اور ان کی قدر و منزلت ثابت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 427
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف بقية بن الوليد مدلس وقد عنعن
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف بقية بن الوليد مدلس وقد عنعن، [مكتبه الشامله نمبر: 427]» ¤ اس قول کی سند ضعیف ہے، بقیہ اس میں مدلس اور عنعن سے روایت کیا ہے۔ ام عبداللہ عبدہ بنت خالد بن معدان ہیں۔ امام بخاری نے [التاريخ الكبير 176/3] میں اسے صحیح سند سے ذکر کیا ہے۔