حدیث نمبر: 405
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: "لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْأَهْوَاءِ وَلَا تُجَادِلُوهُمْ، فَإِنِّي لَا آمَنُ أَنْ يَغْمِسُوكُمْ فِي ضَلَالَتِهِمْ، أَوْ يَلْبِسُوا عَلَيْكُمْ مَا كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوقلابہ نے کہا: خواہشات کے بندوں (اہل ہوس) کے پاس نہ بیٹھو، اور نہ ان سے تکرار کرو، کیونکہ میں تم کو ان سے محفوظ نہیں سمجھتا کہ وہ تمہیں گمراہی میں ڈبو دیں گے، یا جس چیز کی تم معرفت رکھتے ہو اس میں بھی خلط ملط کر دیں گے۔
حدیث نمبر: 406
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: رَآنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ جَلَسْتُ إِلَى طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، فَقَالَ لِي: "أَلَمْ أَرَكَ جَلَسْتَ إِلَى طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ؟ لَا تُجَالِسَنَّهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ایوب نے کہا: سعید بن جبیر نے مجھے طلق بن حبیب کے پاس بیٹھے دیکھا تو مجھ سے کہا: کیا میں نے تمہیں طلق بن حبیب کے پاس بیٹھے نہیں دیکھا؟ تم (ہرگز) ان کے پاس نہ بیٹھو۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 404 سے 406)
سعید بن جبیر نے اس لئے طلق بن حبیب کے پاس بیٹھنے سے منع کیا کیونکہ وہ مرجئہ میں سے تھے اور انہوں نے دین میں نئی باتیں ایجاد کر لی تھیں۔
کلام اور فلسفہ میں ٹامک ٹویاں مارتے تھے۔
سعید بن جبیر نے اس لئے طلق بن حبیب کے پاس بیٹھنے سے منع کیا کیونکہ وہ مرجئہ میں سے تھے اور انہوں نے دین میں نئی باتیں ایجاد کر لی تھیں۔
کلام اور فلسفہ میں ٹامک ٹویاں مارتے تھے۔
حدیث نمبر: 407
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ، قَالَ: "بَلَغَنِي أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ، فَإِنْ كَانَ قَدْ أَحْدَثَ، فَلَا تَقْرَأْ عَلَيْهِ السَّلَامَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
نافع سے مروی ہے کہ سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: کہ فلاں آدمی آپ کو سلام کہتا ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس نے بدعت ایجاد کی ہے، اگر اس نے ایسا کیا ہے تو میرا سلام اسے نہ کہنا۔
حدیث نمبر: 408
أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: "كَانَ إِبْرَاهِيمُ لَا يَرَى غِيبَةً لِلْمُبْتَدِعِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
اعمش نے کہا: امام ابراہیم نخعی بدعتی کے بارے میں کچھ کہنے کو غیبت میں شمار نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 409
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "إِنَّمَا سُمِّيَ الْهَوَى لِأَنَّهُ يَهْوِي بِصَاحِبِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: خواہش نفس کا نام «هويٰ» اس لئے رکھا گیا کیونکہ وہ صاحب ھویٰ کو لے کر (جہنم میں) گرتی چلی جاتی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 406 سے 409)
«هَوَيٰ يَهْوِي» کے معنی گرنے کے ہیں۔
«هَوَيٰ يَهْوِي» کے معنی گرنے کے ہیں۔
حدیث نمبر: 410
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ، قَالَ: كَانَ مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ، يَقُولُ: "إِيَّاكُمْ وَالْمِرَاءَ، فَإِنَّهَا سَاعَةُ جَهْلِ الْعَالِمِ، وَبِهَا يَبْتَغِي الشَّيْطَانُ زَلَّتَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
محمد بن واسع نے کہا کہ مسلم بن یسار فرماتے تھے: اپنے کو مراء (دکھاوے) سے بچاؤ کیونکہ یہ عالم کی نادانی کی گھڑی ہوتی ہے اور شیطان ایسی لغزش کی تلاش میں رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 411
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ الْأَهْوَاءِ عَلَى ابْنِ سِيرِينَ، فَقَالَا: يَا أَبَا بَكْرٍ، نُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ ؟، قَالَ: لَا، قَالَا: فَنَقْرَأُ عَلَيْكَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ؟، قَالَ: لَا، لِتَقُومَانِ عَنِّي أَوْ لَأَقُومَنَّ، قَالَ: فَخَرَجَا، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا أَبَا بَكْرٍ، وَمَا كَانَ عَلَيْكَ أَنْ يَقْرَآ عَلَيْكَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تعَالَى قَالَ: "إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْرَآ عَلَيَّ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَيُحَرِّفَانِهَا، فَيَقِرُّ ذَلِكَ فِي قَلْبِي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
اسماء بن عبید نے کہا کہ اہل ہوس (متکلمین و فلاسفہ) میں سے دو آدمی امام ابن سیرین رحمہ اللہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے ابوبکر! ہم آپ کے لئے حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: نہیں (اس کی ضرورت نہیں)، انہوں نے کہا: پھر ہم آپ کو قرآن پاک کی کوئی آیت سناتے ہیں، فرمایا: نہیں، یا تم میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ یا میں خود چلا جاؤں گا۔ راوی نے کہا: لہٰذا وہ دونوں نکل گئے، اہل مجلس میں سے کسی نے کہا: اے ابوبکر! کیا برائی تھی اگر وہ قرآن پاک کی کوئی آیت سنا دیتے؟ فرمایا: مجھے ڈر تھا کہ وہ کوئی آیت سنائیں اور اس میں تحریف کر دیں اور وہ میرے دل میں بیٹھ جائے۔
حدیث نمبر: 412
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ، قَالَ لِأَيُّوبَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَسْأَلُكَ عَنْ كَلِمَةٍ ؟، قَالَ: "فَوَلَّى وَهُوَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ وَلَا نِصْفَ كَلِمَةٍ"، وَأَشَارَ لَنَا سَعِيدٌ بِخِنْصِرِهِ الْيُمْنَى.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سلام بن ابی مطیع سے مروی ہے کہ «أهل الأهواء» (بدعتیوں) میں سے ایک آدمی نے ایوب (السختیانی رحمہ اللہ) سے کہا: اے ابوبکر! میں آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں، راوی نے کہا: ایوب رحمہ اللہ نے پیٹھ پھیر لی اور انگلی سے اشارہ کیا کہ آدھی بات بھی نہیں۔ سعید بن عامر نے سیدھے ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا۔
حدیث نمبر: 413
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ شَيْءٍ، فَلَمْ يُجِبْهُ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: "أَزِيشَانْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
کلثوم بن جبر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے اس کا جواب نہیں دیا، جب ان سے اس (اعراض) کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا: یہ انہیں میں سے ہے (یعنی بدعتی ہے)۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 409 سے 413)
«أَزِيشَان» : یہ کلمہ فارسی زبان کا ہے جس کے معنی ہیں: انہیں (یعنی بدعتیوں) میں سے ہے۔
«أَزِيشَان» : یہ کلمہ فارسی زبان کا ہے جس کے معنی ہیں: انہیں (یعنی بدعتیوں) میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 414
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: "لَا تُجَالِسُوا أَصْحَابَ الْخُصُومَاتِ، فَإِنَّهُمْ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوجعفر محمد بن علی سے مروی ہے، انہوں نے کہا: اہل کلام (منطق و فلسفہ والے) کے ساتھ نہ بیٹھو کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جو الله تعالیٰ کی آیات میں کلام کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 415
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، وَابْنِ سِيرِينَ، أنهما قَالَا: "لَا تُجَالِسُوا أَصْحَابَ الْأَهْوَاءِ، وَلَا تُجَادِلُوهُمْ، وَلَا تَسْمَعُوا مِنْهُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن اور امام محمد بن سیرین رحمہم اللہ نے فرمایا: اہل کلام کے ساتھ نہ بیٹھو، نہ ان سے بحث مباحثہ کرو، اور نہ ان سے سماع کرو۔
حدیث نمبر: 416
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أُمَيٍّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "إِنَّمَا سُمُّوا أَصْحَابَ الْأَهْوَاءِ، لِأَنَّهُمْ يَهْوُونَ فِي النَّارِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہویٰ و ہوس اور نفس کے بندے یہ اس لئے نام زد کئے گئے کیونکہ یہ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 413 سے 416)
«الأهواء: هَوَي» کی جمع ہے اور «هَوَيٰ يَهْوِي» کے معنی نیچے گرنا، پس اصحاب الاہواء خواہشِ نفس کے سامنے گر جاتے ہیں اور اسی طرح جہنم میں گر جائیں گے، جیسا کہ مثل مشہور ہے: «الجزاء من جنس العمل» (جیسی کرنی ویسی بھرنی)۔
ان تمام آثار سے یہ ثابت ہوا کہ اہلِ بدعت، فلسفی، نفس پرست، خواہشات کے اسیر لوگوں کے پاس نہ بیٹھنا چاہیے اور نہ ان کی بات سننی چاہیے۔
«الأهواء: هَوَي» کی جمع ہے اور «هَوَيٰ يَهْوِي» کے معنی نیچے گرنا، پس اصحاب الاہواء خواہشِ نفس کے سامنے گر جاتے ہیں اور اسی طرح جہنم میں گر جائیں گے، جیسا کہ مثل مشہور ہے: «الجزاء من جنس العمل» (جیسی کرنی ویسی بھرنی)۔
ان تمام آثار سے یہ ثابت ہوا کہ اہلِ بدعت، فلسفی، نفس پرست، خواہشات کے اسیر لوگوں کے پاس نہ بیٹھنا چاہیے اور نہ ان کی بات سننی چاہیے۔