کتب حدیث ›
سنن دارمي › ابواب
› باب: جو بنا سوچے بغیر نیت کے علم طلب کرے تو بھی علم اس کی نیت درست کر دیتا ہے
حدیث نمبر: 369
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، قَالَ: "مَا كَانَ طَلَبُ الْحَدِيثِ أَفْضَلَ مِنْهُ الْيَوْمَ، قَالُوا لِسُفْيَانَ: إِنَّهُمْ يَطْلُبُونَهُ بِغَيْرِ نِيَّةٍ ؟، قَالَ: طَلَبُهُمْ إِيَّاهُ نِيَّةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ بن یمان نے کہا: میں نے سفیان رحمہ اللہ کو چالیس سال سے کہتے سنا: آج سے زیادہ طلب حدیث کبھی اتنی افضل نہ تھی۔ لوگوں نے سفیان رحمہ اللہ سے دریافت کیا: لوگ بنا نیت کے حدیث طلب کرتے ہیں، کہا: ان کا طلب کرنا ہی نیت ہے۔
حدیث نمبر: 370
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَجْلَحِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: "طَلَبْنَا هَذَا الْعِلْمَ وَمَا لَنَا فِيهِ كَبِيرُ نِيَّةٍ، ثُمَّ رَزَقَ اللَّهُ بَعْدُ فِيهِ النِّيَّةَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم نے اس علم کو بلا کسی بڑی نیت کے ڈھونڈا، پھر الله تعالیٰ نے بعد کو نیت (صالح) عطاء فرما دی۔
حدیث نمبر: 371
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "لَقَدْ طَلَبَ أَقْوَامٌ الْعِلْمَ، مَا أَرَادُوا بِهِ اللَّهَ تعَالَيَ وَلَا مَا عِنْدَهُ، قَالَ: فَمَا زَالَ بِهِمْ الْعِلْمُ، حَتَّى أَرَادُوا بِهِ اللَّهَ وَمَا عِنْدَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگوں نے علم تلاش کیا حالانکہ وہ اس کے ذریعہ نہ اللہ کا اور نہ جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اس کا ارادہ رکھتے تھے، فرمایا: وہ علم حاصل کرتے رہے یہاں تک کہ ان کی نیت خالص ہو گئی، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اور جو اللہ کے پاس ہے اس کی نیت کر لی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 368 سے 371)
ان آثار سے ثابت ہوا کہ شروع میں حصولِ علم کے لئے کوئی مقصد اور نیّت نہ بھی ہو تو علم کی روشنی خلوصِ وللّٰہیت پیدا کر دیتی ہے۔
واضح ہو کہ علم سے مراد علمِ کتاب و سنّت ہے۔
ان آثار سے ثابت ہوا کہ شروع میں حصولِ علم کے لئے کوئی مقصد اور نیّت نہ بھی ہو تو علم کی روشنی خلوصِ وللّٰہیت پیدا کر دیتی ہے۔
واضح ہو کہ علم سے مراد علمِ کتاب و سنّت ہے۔