حدیث نمبر: 329
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: رَأَى مُجَاهِدٌ طَاوُسًا فِي الْمَنَامِ، كَأَنَّهُ فِي الْكَعْبَةِ يُصَلِّي مُتَقَنِّعًا، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَابِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ لَهُ: "يَا عَبْدَ اللَّهِ، اكْشِفْ قِنَاعَكَ وَأَظْهِرْ قِرَاءَتَكَ"، قَالَ: فَكَأَنَّهُ عَبَّرَهُ عَلَى الْعِلْمِ، فَانْبَسَطَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْحَدِيثِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم بن میسرہ نے کہا کہ مجاہد نے طاؤوس رحمہ اللہ کو خواب میں دیکھا کہ وہ کعبہ میں نقاب لگائے نماز پڑھ رہے ہیں، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہیں اور فرما رہے ہیں: اے اللہ کے بندے! اپنا نقاب ہٹا دے، اور آواز سے پڑھ (یعنی اعلانیہ حدیث بیان کر)، ابراہیم نے کہا: اس کی تعبير انہوں نے علم سے کی، اور اس کے بعد مسرور ہو کر حدیث بیان کرنے لگے۔
حدیث نمبر: 330
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ يَمَانٍ، عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: "الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ، مَلْعُونٌ مَا فِيهَا، إِلَّا مُتَعَلِّمَ خَيْرًا، أَوْ مُعَلِّمُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
کعب نے کہا: دنیا ملعونہ ہے اور جو اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے سوائے خیر کے سیکھنے اور سکھانے والے کے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 328 سے 330)
ملعون سے مراد یہ ہے کہ عالم و متعلم کے علاوہ سب اللہ کی رحمت سے دور ہیں۔
ملعون سے مراد یہ ہے کہ عالم و متعلم کے علاوہ سب اللہ کی رحمت سے دور ہیں۔
حدیث نمبر: 331
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ بَحِيرٍ بن سعد، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: "النَّاسُ عَالِمٌ وَمُتَعَلِّمٌ، وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ هَمَجٌ لَا خَيْرَ فِيهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
خالد بن معدان نے فرمایا: لوگ یا تو عالم ہیں یا متعلم، اور ان دونوں کے درمیان جو ہیں وہ رذیل لوگ ہیں، جن میں کوئی خیر نہیں۔
حدیث نمبر: 332
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: كَانُوا يَقُولُونَ: "مَوْتُ الْعَالِمِ ثُلْمَةٌ فِي الْإِسْلَامِ، لَا يَسُدُّهَا شَيْءٌ مَا اخْتَلَفَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ہشام نے روایت کیا کہ حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگ کہتے تھے کہ عالم کی موت اسلام میں ایک شگاف ہے، جس کو رہتی دنیا تک کوئی چیز بند نہ کر سکے گی۔
حدیث نمبر: 333
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُنْذِرٌ هُوَ ابْنُ النُّعْمَانِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: "مَجْلِسٌ يُتَنَازَعُ فِيهِ الْعِلْمُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ قَدْرِهِ صَلَاةً، لَعَلَّ أَحَدَهُمْ يَسْمَعُ الْكَلِمَةَ فَيَنْتَفِعُ بِهَا سَنَةً، أَوْ مَا بَقِيَ مِنْ عُمُرِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
وہب بن منبہ نے فرمایا: میرے نزدیک ایسی مجلس جس میں علم کے بارے میں مناقشہ ہو، اسی قدر نماز سے زیادہ پسندیدہ و محبوب ہے، اس لئے کہ شاید ان میں سے کوئی ایسا کلمہ سن لے جو اس کو سال بھر یا باقی ماندہ عمر میں فائدہ دے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 330 سے 333)
اس کا مطلب یہ ہے کہ علم سیکھنا اور سکھانا نفلی نماز سے بہتر ہے جس کا فائدہ دوسرے لوگوں تک ممتد ہے اور نماز صرف اپنے لئے فائدہ مند ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ علم سیکھنا اور سکھانا نفلی نماز سے بہتر ہے جس کا فائدہ دوسرے لوگوں تک ممتد ہے اور نماز صرف اپنے لئے فائدہ مند ہے۔
حدیث نمبر: 334
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: "مَا أَعْلَمُ عَمَلًا أَفْضَلَ مِنْ طَلَبِ الْعِلْمِ وَحِفْظِهِ لِمَنْ أَرَادَ اللَّهَ تعَالَي بِهِ خَيْرًا". .
محمد الیاس بن عبدالقادر
سفیان ثوری رحمہ اللہ نے فرمایا: جس شخص کے ساتھ الله تعالیٰ بھلائی چاہے اس کے لئے علم حاصل کرنے اور اس کے حفظ سے بہتر کوئی عمل نہیں جانتا۔
حدیث نمبر: 335
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا وَكِيعٌ، وَقَالَ: قَالَ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ: "إِنَّ النَّاسَ يَحْتَاجُونَ إِلَى هَذَا الْعِلْمِ فِي دِينِهِمْ، كَمَا يَحْتَاجُونَ إِلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ فِي دُنْيَاهُمْ" ..
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن بن صالح نے فرمایا: لوگ یقیناً اپنے دینی معاملات میں اسی طرح اس علم کے محتاج ہوں گے جس طرح اپنی دنیا میں کھانے پینے کے محتاج ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 336
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "تَعَلَّمُوا قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ الْعِلْمُ، فَإِنَّ قَبْضَ الْعِلْمِ قَبْضُ الْعُلَمَاءِ، وَإِنَّ الْعَالِمَ وَالْمُتَعَلِّمَ فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: علم حاصل کرو، اس سے قبل کہ وہ سمیٹ لیا جائے، بیشک علم کا سمٹنا علماء کا سمٹ جانا (ختم ہو جانا) ہے، یقیناً عالم اور متعلم (طالب علم) اجر میں برابر ہیں۔
حدیث نمبر: 337
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ الضَّحَّاكِ: وَلَكِنْ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ سورة آل عمران آية 79، قَالَ: "حَقٌّ عَلَى كُلِّ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ أَنْ يَكُونَ فَقِيهًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ضحاک رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ آیت شریفہ: «﴿وَلَكِنْ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ ....﴾» [آل عمران: 79/3] کا مطلب ہے کہ جو بھی قرآن پڑھے اس پر واجب ہے کہ وہ فقیہ (یعنی عالم ربانی) بنے۔
حدیث نمبر: 338
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ الْحَسَنِ: لَوْلا يَنْهَاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالأَحْبَارُ سورة المائدة آية 63، قَالَ: "الْحُكَمَاءُ الْعُلَمَاءُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت: «﴿لَوْلَا يَنْهَاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ ....﴾» [المائدة: 63/5] ”انہیں ان کے عابد و عالم کیوں نہیں روکتے ہیں“ کی تفسیر میں فرمایا کہ «الربانيون» سے مراد حکماء اور علماء ہیں۔
حدیث نمبر: 339
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُونُوا رَبَّانِيِّينَ سورة آل عمران آية 79، قَالَ: "عُلَمَاءُ فُقَهَاءُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے «كونوا ربانيين» (تم سب رب کے ہو جاؤ) کے بارے میں کہا «ربانيين» سے مراد علماء و فقہاء ہیں۔
حدیث نمبر: 340
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ: "يُرَادُ لِلْعِلْمِ الْحِفْظُ، وَالْعَمَلُ، وَالِاسْتِمَاعُ، وَالْإِنْصَاتُ، وَالنَّشْرُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبیدالله بن سعید نے کہا: میں نے سفیان بن عیینہ کو کہتے ہوئے سنا: علم سے مراد حفظ، عمل، استماع، خاموشی اور تبلیغ ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 333 سے 340)
یعنی جو علم حاصل کرے اسے حفظ کر لے، اس پر عمل پیرا ہو، خاموشی سے سنے پھر اس کو دوسروں تک پہنچائے، تب عالم کہلائے گا ورنہ نہیں۔
یعنی جو علم حاصل کرے اسے حفظ کر لے، اس پر عمل پیرا ہو، خاموشی سے سنے پھر اس کو دوسروں تک پہنچائے، تب عالم کہلائے گا ورنہ نہیں۔
حدیث نمبر: 341
قَالَ: وأَخْبَرَنِي أحمد بن مُحَمَّدٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: "أَجْهَلُ النَّاسِ مَنْ تَرَكَ مَا يَعْلَمُ، وَأَعْلَمُ النَّاسِ مَنْ عَمِلَ بِمَا يَعْلَمُ، وَأَفْضَلُ النَّاسِ أَخْشَعَهُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بڑا جاہل وہ ہے جو علم ہوتے ہوئے اسے چھوڑ دے (یعنی نہ عمل کرے نہ تبلیغ) اور سب سے بڑا عالم وہ ہے جو علم کے مطابق عمل کرے، اور لوگوں میں سب سے زیادہ اچھا وہ ہے جو الله عزوجل سے سب سے زیادہ خشیت والا ہو۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 340)
اس قول میں «﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ﴾» کی تفسیر ہے۔
اس قول میں «﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ﴾» کی تفسیر ہے۔
حدیث نمبر: 342
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ: مَنْهُومٌ فِي الْعِلْمِ لَا يَشْبَعُ مِنْهُ، وَمَنْهُومٌ فِي الدُّنْيَا لَا يَشْبَعُ مِنْهَا، فَمَنْ تَكُنِ الْآخِرَةُ هَمَّهُ، وَبَثَّهُ، وَسَدَمَهُ، يَكْفِي اللَّهُ ضَيْعَتَهُ، وَيَجْعَلُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَمَنْ تَكُنِ الدُّنْيَا هَمَّهُ، وَبَثَّهُ، وَسَدَمَهُ، يُفْشِي اللَّهُ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ، وَيَجْعَلُ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، ثُمَّ لَا يُصْبِحُ إِلَّا فَقِيرًا، وَلَا يُمْسِي إِلَّا فَقِيرًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: دو حرص کرنے والے کبھی اکتاتے نہیں، ایک تو علم کا حریص جو علم سے کبھی اکتاتا نہیں، دوسرا دنیا کی چاہت رکھنے والا جو دنیا سے نہیں اکتاتا، پس جس آدمی کا ہم و ارادہ، اوڑھنا بچھونا اور چاہت و ذکر سب کچھ آخرت ہی ہو، اللہ اس کے ہر کام و کاروبار میں کافی ہو گا، اور اس کا غنیٰ اس کے دل میں ڈال دے گا، اور جس کا ہم و چاہت و محبت دنیا ہو اللہ اس کے کاروبار کو منتشر کر دے گا، اور اس کی غریبی و محتاجی کو اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھ دے گا، پھر وہ صبح بھی فقیر ہو گا اور شام کو بھی فقیر ہو گا۔
حدیث نمبر: 343
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ عَوْنٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ: صَاحِبُ الْعِلْمِ، وَصَاحِبُ الدُّنْيَا، وَلَا يَسْتَوِيَانِ، أَمَّا صَاحِبُ الْعِلْمِ، فَيَزْدَادُ رِضًى لِلرَّحْمَنِ، وَأَمَّا صَاحِبُ الدُّنْيَا، فَيَتَمَادَى فِي الطُّغْيَانِ"، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: كَلَّا إِنَّ الإِنْسَانَ لَيَطْغَى { 6 } أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى { 7 } سورة العلق آية 6-7، قَالَ: وَقَالَ الْآخَرُ: إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ سورة فاطر آية 28.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دو حریص آدمی کبھی اکتاتے نہیں، ایک صاحب علم، دوسرا طالب دنیا اور دونوں برابر نہیں ہو سکتے، صاحب علم اللہ کی خوشنودی میں اضافہ کرتا ہے اور صاحب دنیا سرکشی و طغیانی میں پڑا ٹامک ٹوئیاں مارتا رہتا ہے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: « ﴿كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى ٭ أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى﴾ » [العلق: 6/96، 7] سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے، وہ اس لئے کہ وہ اپنے آپ کو بےپروا (یا تونگر) سمجھتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی اور نے کہا: «﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ...﴾» [فاطر: 28/35] ”بیشک الله تعالیٰ سے اس کے عالم بندے ہی ڈرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 344
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُخْتَارٍ، حَدَّثَنَا عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ سورة فاطر آية 28، قَالَ: "مَنْ خَشِيَ اللَّهَ فَهُوَ عَالِمٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: «﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ﴾» [فاطر: 28/35] جو اللہ سے ڈرے وہ عالم ہے۔ دو حریص آدمی کبھی آسودہ نہیں ہو سکتے، طالب علم اور طالب دنیا۔
حدیث نمبر: 345
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَال: "مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ: طَالِبُ عِلْمٍ، وَطَالِبُ دُنْيَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: دو مشتاق (حریص) آدمی کبھی اکتاتے نہیں، طالب علم اور طالب دنیا۔
حدیث نمبر: 346
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ فَأَدْرَكَهُ، كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنْ الْأَجْرِ، فَإِنْ لَمْ يُدْرِكْهُ، كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنْ الْأَجْرِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے علم طلب کیا اور اسے حاصل بھی کر لیا، تو اس کے لئے دو گنا اجر ہے، اور اگر علم حاصل نہ کر سکا تو بھی اس کے لئے ایک حصہ اجر ہے۔“
حدیث نمبر: 347
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ عَبَّاسٍ الْعَمِّيِّ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ دَاوُدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: "سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ، أَنْتَ رَبِّي تَعَالَيْتَ فَوْقَ عَرْشِكَ، وَجَعَلْتَ خَشْيَتَكَ عَلَى مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، فَأَقْرَبُ خَلْقِكَ مِنْكَ مَنْزِلَةً أَشَدُّهُمْ لَكَ خَشْيَةً، وَمَا عِلْمُ مَنْ لَمْ يَخْشَكَ ؟ وَمَا حِكْمَةُ مَنْ لَمْ يُطِعْ أَمْرَكَ ؟ !".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عباس العمي نے کہا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ نبی داؤد علیہ السلام اپنی دعا میں کہا کرتے تھے: اے اللہ! تو پاک ہے (ہر عیب سے)، تو میرا رب ہے، عرش کے اوپر جلوہ افروز ہے، اور تو نے اپنی خشیت ان لوگوں میں پیدا کر دی ہے جو زمین و آسمان میں ہیں، پس مقام و مرتبے میں تیری مخلوق میں تیرے قریب ترین وہ ہے جو سب سے زیادہ تیری خشیت و خوف والا ہے، اور وہ علم ہی کیا جو تجھ سے نہ ڈرے، اور وہ حکمت کیسی جو تیرے حکم کی پیروی نہ کرے۔
حدیث نمبر: 348
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ هُوَ ابْنُ أَبِي مُطِيعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْهَزْهَازِ يُحَدِّثُ، عَنْ الضَّحَّاكِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "اغْدُ عَالِمًا، أَوْ مُتَعَلِّمًا، وَلَا خَيْرَ فِيمَا سِوَاهُمَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ضحاک رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا تو عالم بنو یا متعلم، اور ان دونوں کے علاوہ کسی میں خیر نہیں۔
حدیث نمبر: 349
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "سَتَكُونُ فِتَنٌ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا، وَيُمْسِي كَافِرًا، إِلَّا مَنْ أَحْيَاهُ اللَّهُ بِالْعِلْمِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوامامۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب اتنے فتنے رونما ہوں گے جس میں صبح کو آدمی مومن ہو گا تو شام میں کافر ہو جائے گا، سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ علم کے ساتھ زندہ رکھے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 341 سے 349)
یعنی علم کی وجہ سے انسان فتنوں سے محفوظ رہے گا، اور فتنوں سے مراد ہر قسم کے فتنے ہیں جو دین، ایمان اور عقیدے سے بھی تعلق رکھتے ہیں، لہٰذا انسان کو کتاب و سنّت کا علم ضرور حاصل کرنا چاہئے۔
یعنی علم کی وجہ سے انسان فتنوں سے محفوظ رہے گا، اور فتنوں سے مراد ہر قسم کے فتنے ہیں جو دین، ایمان اور عقیدے سے بھی تعلق رکھتے ہیں، لہٰذا انسان کو کتاب و سنّت کا علم ضرور حاصل کرنا چاہئے۔
حدیث نمبر: 350
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: "اغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا، وَلَا تَغْدُ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ، فَإِنَّ مَا بَيْنَ ذَلِكَ جَاهِلٌ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَبْسُطُ أَجْنِحَتَهَا لِلرَّجُلِ غَدَا يَبْتَغِي الْعِلْمَ مِنْ الرِّضَاءِ بِمَا يَصْنَعُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ہارون بن رباب نے کہا سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: یا عالم بنو یا متعلم، ان دونوں کے درمیانی نہ بنو اس لئے کہ ان دونوں کے درمیان (کے لوگ) جاہل ہیں۔ بیشک فرشتے ایسے آدمی کے فعل سے خوش ہو کر اس کے لئے اپنے پر بچھاتے ہیں جو علم حاصل کرنے کے لئے نکلتا ہے۔
حدیث نمبر: 351
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَجُلَيْنِ كَانَا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ: أَحَدُهُمَا كَانَ عَالِمًا يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ، ثُمَّ يَجْلِسُ فَيُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ، وَالْآخَرُ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ، أَيُّهُمَا أَفْضَلُ ؟، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَضْلُ هَذَا الْعَالِمِ الَّذِي يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ ثُمَّ يَجْلِسُ فَيُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ، عَلَى الْعَابِدِ الَّذِي يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ، كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ رَجُلًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بنی اسرائیل کے دو آدمیوں کے بارے میں دریافت کیا گیا، ایک ان میں سے عالم تھا جو نماز پڑھتا اور پھر بیٹھ کر لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا، دوسرا آدمی دن کو روزے رکھتا اور رات میں قیام کرتا، ان دونوں میں سے کون افضل ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عالم کی فضیلت جو نماز پڑھتا ہے اور پھر بیٹھ کر لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے، اس عابد پر جو دن کو روزہ رکھتا اور رات میں تہجد پڑھتا ہے، ایسی ہی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ایک ادنیٰ آدمی پر ہے۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عالم کی فضیلت جو نماز پڑھتا ہے اور پھر بیٹھ کر لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے، اس عابد پر جو دن کو روزہ رکھتا اور رات میں تہجد پڑھتا ہے، ایسی ہی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ایک ادنیٰ آدمی پر ہے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 349 سے 351)
یہ حسن بصری کا قول ہے، اس سے معلوم ہوا کہ عبادت کے ساتھ تعلیم دینا بہت کارِ فضیلت ہے، اور ایسا معلم عابد سے بہت زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔
یہ حسن بصری کا قول ہے، اس سے معلوم ہوا کہ عبادت کے ساتھ تعلیم دینا بہت کارِ فضیلت ہے، اور ایسا معلم عابد سے بہت زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 352
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: "دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا الأَسْودَ بْنُ سَرِيع يَقُصُّ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَذْكُرُ الْعِلْمَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَمَيَّلْتُ إِلَى أَيِّهِمَا أَجْلِسُ، فَنَعَسْتُ، فَأَتَانِي آتٍ، فَقَالَ: مَيَّلْتَ إِلَى أَيِّهِمَا تَجْلِسُ ؟ إِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ مَكَانَ جِبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ مِنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابن سیرین رحمہ اللہ نے کہا: میں مسجد میں داخل ہوا (تو دیکھا) اسود بن سریع قصہ بیان کر رہے ہیں، اور حمید بن عبدالرحمٰن مسجد کے ایک گوشے میں علمی گفتگو کر رہے ہیں، مجھے تردد ہوا کہ کون سے حلقے میں جا کر بیٹھوں؟ مجھے اونگھ آ گئی اور ایک آنے والا آیا اور اس نے کہا: تمہیں تردد ہے کہ کہاں بیٹھو؟ اگر تم چاہو تو میں تمہیں حمید بن عبدالرحمٰن کے حلقے میں جبریل علیہ السلام کے بیٹھنے کی جگہ بتاؤں؟
وضاحت:
(تشریح حدیث 351)
اس سے معلوم ہوا علمی مجالس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، گرچہ یہ ابن سیرین کا قول ہے لیکن حدیث: «مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ» سے اس کی تائید ہوتی ہے جو رقم (367) پرآگے آرہی ہے۔
اس سے معلوم ہوا علمی مجالس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، گرچہ یہ ابن سیرین کا قول ہے لیکن حدیث: «مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ» سے اس کی تائید ہوتی ہے جو رقم (367) پرآگے آرہی ہے۔
حدیث نمبر: 353
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، إِنِّي أَتَيْتُكَ مِنْ الْمَدِينَةِ، مَدِينَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَمَا جَاءَ بِكَ تِجَارَةٌ ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: وَلَا جَاءَ بِكَ غَيْرُهُ ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ بِهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ، لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْمَاءِ، وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ النُّجُومِ، إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا، وَلَا دِرْهَمًا، وَإِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَ بِهِ أَخَذَ بِحَظِّهِ، أَوْ بِحَظٍّ وَافِرٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
کثیر بن قیس نے کہا: میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس دمشق کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے ابودرداء! میں آپ کے پاس مدينۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آیا ہوں اس حدیث کے لئے جس کے بارے میں مجھے اطلاع ملی ہے کہ آپ (اسے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: تم تجارت کے واسطے آئے ہو؟ کہا: نہیں۔ فرمایا: اور کوئی چیز بھی تمہیں یہاں نہیں لائی؟ کہا: نہیں، فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے ہیں : ”جو شخص کسی راستے میں علم کی تلاش میں نکلا تو الله تعالیٰ اس کے لئے اس کے ذریعہ جنت کے راستوں میں سے ایک راستہ آسان فرما دیتا ہے، اور بیشک فرشتے طالب علم سے خوش ہو کر اس کے لئے اپنے پر بچھاتے ہیں، اور بیشک طالب علم کے لئے جو زمین آسمان میں ہیں مغفرت طلب کرتے ہیں یہاں تک کہ مچھلیاں بھی پانی میں (طالب علم کے لئے مغفرت طلب کرتی ہیں) اور بیشک عالم کی فضیلت عابد پر ایسے ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر، بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں، انبیاء نے یقیناً دینار و درہم کا ورثہ نہیں چھوڑا بلکہ علم کا ورثہ چھوڑا ہے، پس جس نے علم حاصل کیا اس نے اپنا نصیب یا وافر نصیب حاصل کر لیا۔ “
وضاحت:
(تشریح حدیث 352)
اس حدیث میں علم اور عالم اور متعلم کی فضیلت بیان کی گئی ہے جس کے لئے زمین و آسمان کی تمام مخلوق استغفار کرتی ہے۔
اس حدیث میں علم اور عالم اور متعلم کی فضیلت بیان کی گئی ہے جس کے لئے زمین و آسمان کی تمام مخلوق استغفار کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 354
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْفَزَارِيِّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "مُعَلِّمُ الْخَيْرِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ، حَتَّى الْحُوتُ فِي الْبَحْرِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: بھلائی کی تعلیم دینے والے کے لئے ہر چیز مغفرت طلب کرتی ہے، حتی کہ سمندر کی مچھلیاں بھی۔
حدیث نمبر: 355
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا مِنْ رَجُلٍ يَسْلُكُ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا، إِلَّا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ، لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی آدمی علم کی طلب میں کسی راستے میں چلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس ذریعہ سے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے، اور جس کے ساتھ اس کے عمل نے دیر لگائی تو اس کے ساتھ اس کا نسب کچھ جلدی نہیں کرے گا۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 353 سے 355)
یعنی عملِ صالح کے بغیر نسب کام نہ آئے گا۔
یعنی عملِ صالح کے بغیر نسب کام نہ آئے گا۔
حدیث نمبر: 356
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، عَنْ يَعْقُوبَ هُوَ الْقُّمِّيُّ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "مَا سَلَكَ رَجُلٌ طَرِيقًا يَبْتَغِي فِيهِ الْعِلْمَ، إِلَّا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَنْ يُبْطِئْ بِهِ عَمَلُهُ، لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نہیں چلا کوئی آدمی علم کی تلاش میں کوئی راستہ مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ جنت کا راستہ اس کے لئے آسان فرما دیا، اور جس کے ساتھ اس کے عمل نے تاخیر کی، اس کا عمل اس کے لئے جلدی نہ کرے گا۔
حدیث نمبر: 357
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ ابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ مُطَر: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 17، قَالَ: "هَلْ مِنْ طَالِبِ خَيْرٍ فَيُعَانَ عَلَيْهِ ؟". .
محمد الیاس بن عبدالقادر
مطر الوراق نے کہا: آیت شریفہ: «﴿وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾» [القمر: 17/54] کا مطلب ہے: کوئی طالب خیر ہے جس کی اعانت و مدد کی جائے۔
حدیث نمبر: 358
وأَخْبَرَنَا مَرْوَانُ، عَنْ ضَمْرَةَ، قَالَ: "طَالِبُ عِلْمٍ" . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
مروان سے روایت ہے ضمرة نے کہا: اس «(مُدَّكِّر)» سے مراد طالب علم ہے۔
حدیث نمبر: 359
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ هُوَ الْقُمِّيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا رَأَى طَلَبَةَ الْعِلْمِ، قَالَ: "مَرْحَبًا بِطَلَبَةِ الْعِلْمِ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى بِكُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عامر بن ابراہیم سے مروی ہے کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ جب طلاب العلم کو دیکھتے تو فرماتے «مرحبا بطلبة العلم» طلاب العلم کو مرحبا (خوش آمدید) کہتے اور فرماتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے بارے میں وصیت کی ہے۔
حدیث نمبر: 360
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِمَجْلِسَيْنِ فِي مَسْجِدِهِ، فَقَالَ: "كِلَاهُمَا عَلَى خَيْرٍ، وَأَحَدُهُمَا أَفْضَلُ مِنْ صَاحِبِهِ، أَمَّا هَؤُلَاءِ فَيَدْعُونَ اللَّهَ، وَيَرْغَبُونَ إِلَيْهِ، فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ، وَأَمَّا هَؤُلَاءِ فَيَتَعَلَّمُونَ الْفِقْهَ وَالْعِلْمَ، وَيُعَلِّمُونَ الْجَاهِلَ، فَهُمْ أَفْضَلُ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا"، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ فِيهِمْ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسجد میں دو حلقوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: دونوں ہی خیر پر ہیں لیکن ایک مجلس دوسری مجلس سے افضل ہے، ایک مجلس کے لوگ اللہ تعالیٰ سے دعائیں اور التجائیں کر رہے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ چاہے تو عطاء فرما دے اور چاہے تو محروم رکھے، دوسری مجلس کے لوگ علم و فقہ سیکھ رہے ہیں اور جاہل کو سکھا رہے ہیں، اس لئے یہ افضل ہیں، اور میں بھی تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔“ راوی نے کہا پھر آپ بھی ان کے ساتھ تشریف فرما ہوئے۔
حدیث نمبر: 361
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، أَنَّهُ قَالَ لِابْنِهِ: "يَا بُنَيَّ، إِنَّ الْعِلْمَ خَيْرٌ مِنْ الْعَمَلِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مطرف بن عبداللہ الشخیر نے اپنے بیٹے سے کہا: بیٹے! علم عمل سے بہتر ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 355 سے 361)
یعنی عمل و عبادت اگر علم و بصیرت کے ساتھ ہو تو اس میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔
یعنی عمل و عبادت اگر علم و بصیرت کے ساتھ ہو تو اس میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 362
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يَقُولُ: "لَيْسَ هَدِيَّةٌ أَفْضَلَ مِنْ كَلِمَةِ حِكْمَةٍ، تُهْدِيهَا لِأَخِيكَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
شرحبیل بن شریک نے ابوعبدالرحمٰن حبلی کو کہتے ہوئے سنا: تم اپنے بھائی کو حکمت کی بات کا جو ہدیہ دیتے ہو اس سے بہتر کوئی ہدیہ نہیں۔
حدیث نمبر: 363
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْمُجْتَهِدِ مِئَةُ دَرَجَةٍ، مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ خَمْسُ مِئَةِ سَنَةٍ، حُضْرِ الْفَرَسِ الْمُضَمَّرِ السَّرِيعِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: عالم کی مجتہد پر فضیلت سو درجہ زیادہ ہے، اور ہر دو درجوں کے درمیان تیز دوڑنے والے مضمّر گھوڑوں کی پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ (مضمّر وہ گھوڑا جس کو (ریسں) دوڑ کے لئے تیار کیا جائے)۔
حدیث نمبر: 364
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي السَّكَنُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ سورة المجادلة آية 11، قَالَ: "يَرْفَعُ اللَّهُ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا بِدَرَجَاتٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: «﴿يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ....﴾» [المجادلة: 11/58] سے مراد وہ اہل علم ہیں جن کے درجات اللہ تعالیٰ اہل ایمان پر بلند فرمائے گا۔
حدیث نمبر: 365
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَمْرِو بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ جَاءَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِيُحْيِيَ بِهِ الْإِسْلَامَ، فَبَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّينَ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کی موت اس حال میں آئے کہ وہ احیائے اسلام کے لئے علم کی تلاش میں ہو تو انبیاء اور اس کے درمیان صرف ایک درجہ کا فرق ہو گا۔“
حدیث نمبر: 366
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مِهْرَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: "ذَهَبَ عُمَرُ بِثُلُثَيْ الْعِلْمِ"، فَذَكَرْتُ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: "ذَهَبَ عُمَرُ بِتِسْعَةِ أَعْشَارِ الْعِلْمِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عمرو بن میمون رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ علم کے دو ثلث لے گئے، عمرو نے کہا یہ بات ابراہیم نخعی سے ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ علم کے دس میں سے نو حصے لے گئے۔
حدیث نمبر: 367
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ هَارُونَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ، يَتَذَاكَرُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا أَظَلَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا، حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَبْتَغِي بِهِ الْعِلْمَ، سَهَّلَ اللَّهُ طَرِيقَهُ إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ، لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہوں، اللہ کی کتاب پڑھیں (دہرائیں) اور دوسروں کو پڑھائیں تو فرشتے ان کو اپنے پروں کے سایہ میں لے لیتے ہیں یہاں تک کہ وہ دوسری باتوں میں لگ جائیں۔ اور جو شخص علم حاصل کرنے کی راہ چلے، الله تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ سہل کر دے گا، اور جس کا عمل کوتاہی کرے تو اس کا نسب (خاندان) کچھ کام نہ آوے گا۔
حدیث نمبر: 368
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زرٍّ، قَالَ: غَدَوْتُ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ ؟، قُلْتُ: ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ، قَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ ؟، قُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: "إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، رِضًا بِمَا يَطْلُبُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ذِرّ سے مروی ہے کہ میں صفوان بن عسال مرادی کے پاس گیا (کیونکہ) میں ان سے جرابوں پر مسح کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا، انہوں نے فرمایا: تمہیں میرے پاس کیا چیز لائی ہے؟ میں نے کہا: علم کی تلاش، انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سنا دوں؟ میں نے عرض کیا: ضرور سنایئے، تو انہوں نے مرفوعاً بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک فرشتے علم طلب کرنے والے کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، جو وہ طلب کر رہا ہے اس سے پسندیدگی کے طور پر۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 361 سے 368)
ان تمام روایات سے علم حاصل کرنے کی ترغیب اور عالمِ دین کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
ان تمام روایات سے علم حاصل کرنے کی ترغیب اور عالمِ دین کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔