حدیث نمبر: 314
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: "إِذَا رَأَيْتَ قَوْمًا يُنْتِجُونَ بِأَمْرٍ دُونَ عَامَّتِهِمْ، فَهُمْ عَلَى تَأْسِيسِ الضَّلَالَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: تم لوگوں کو جب کسی بارے میں دوسرے عام لوگوں سے کانا پھوسی کرتے دیکھو تو سمجھ لو کہ وہ گمراہی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 313)
کانا پھوسی یا سرگوشی نصِ قرآنی سے منع ہے: «﴿فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ [المجادلة: 9]» یعنی گناه و سرکشی میں کانا پھوسی نہ کرو۔
کانا پھوسی یا سرگوشی نصِ قرآنی سے منع ہے: «﴿فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ [المجادلة: 9]» یعنی گناه و سرکشی میں کانا پھوسی نہ کرو۔
حدیث نمبر: 315
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: "قَالَ إِبْلِيسُ لِأَوْلِيَائِهِ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَأْتُونَ بَنِي آدَمَ ؟، فَقَالُوا: مِنْ كُلِّ شَيْءٍ، قَالَ: فَهَلْ تَأْتُونَهُمْ مِنْ قِبَلِ الِاسْتِغْفَارِ ؟، قَالُوا: هَيْهَاتَ ! ذَاكَ شَيْءٌ قُرِنَ بِالتَّوْحِيدِ، قَالَ: لَأَبُثَّنَّ فِيهِمْ شَيْئًا لَا يَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ مِنْهُ، قَالَ: فَبَثَّ فِيهِمْ الْأَهْوَاءَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ابلیس نے اپنے احباب سے کہا کہ تم انسان کو کیسے پھسلاتے (گمراہ کرتے) ہو؟ انہوں نے کہا: ہم ہر طرح سے اسے پھسلاتے ہیں، ابلیس نے کہا: کیا تم استغفار کے ذریعہ ان پر حاوی ہوتے ہو؟ (یعنی استغفار سے روک کر)، انہوں نے کہا: ہائے افسوس استغفار تو توحید سے جڑا ہے، اس سے کیسے روکیں؟ ابلیس نے کہا: میں ان کے درمیان ایسی چیزیں رائج کر دوں گا کہ وہ اس کی مغفرت طلب نہیں کریں گے، چنانچہ اس نے وہ چیزیں خواہشات کی صورت میں پھیلا دیں (یعنی خواہشات نفسانی میں انہیں الجھا کر استغفار سے بھی دور کر دیا)۔
حدیث نمبر: 316
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: "مَا أَدْرِي أَيُّ النِّعْمَتَيْنِ عَلَيَّ أَعْظَمُ: أَنْ هَدَانِي لِلْإِسْلَامِ، أَوْ عَافَانِي مِنْ هَذِهِ الْأَهْوَاءِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے پتہ نہیں دو میں سے کون سی نعمت میرے لئے عظیم تر ہے، مجھے الله تعالیٰ نے اسلام کی روشنی بخشی یا ان خواہشات سے محفوظ رکھا یہ عظیم نعمت ہے۔
حدیث نمبر: 317
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، عَنْ حَبَّةَ بْنِ جُوَيْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، أَوْ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "لَوْ أَنَّ رَجُلًا صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ، وَقَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ، ثُمَّ قُتِلَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، لَحَشَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ مَنْ يَرَى أَنَّهُ كَانَ عَلَى هُدًى".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حبہ بن جوین نے کہا: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا یا یہ کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کوئی آدمی پوری زندگی روزے رکھے اور قیام کرے، پھر رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے پاس قتل کر دیا جائے تو بھی اس کو الله تعالیٰ قیامت کے دن ان لوگوں کے ساتھ اٹھائے گا جن کو وہ ہدایت پر سمجھتا تھا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 314 سے 317)
یعنی ہمیشہ روزہ رکھنے اور قیام کرنے والا اور شہید بھی ان لوگوں کے ساتھ نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا جن کو وہ محبوب رکھتا تھا، جیسا کہ آگے صحیح روایت میں آ رہا ہے۔
یعنی ہمیشہ روزہ رکھنے اور قیام کرنے والا اور شہید بھی ان لوگوں کے ساتھ نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا جن کو وہ محبوب رکھتا تھا، جیسا کہ آگے صحیح روایت میں آ رہا ہے۔
حدیث نمبر: 318
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ هَارُونَ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ، قَالَ: قَالَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "لَوْ وَضَعَ رَجُلٌ رَأْسَهُ عَلَى الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ، فَصَامَ النَّهَارَ، وَقَامَ اللَّيْلَ، لَبَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ هَوَاهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوصادق سے مروی ہے کہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر کوئی آدمی اپنا سر حجر اسود پر رکھے اور دن کو روزہ رات کو قیام کرے تب بھی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو اس کی نیت کے مطابق اٹھائے گا۔
حدیث نمبر: 319
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ هُوَ ابْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ الْأَزْدِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "كُونُوا فِي النَّاسِ كَالنَّحْلَةِ فِي الطَّيْرِ: إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ الطَّيْرِ شَيْءٌ إِلَّا وَهُوَ يَسْتَضْعِفُهَا، وَلَوْ يَعْلَمُ الطَّيْرُ مَا فِي أَجْوَافِهَا مِنْ الْبَرَكَةِ، لَمْ يَفْعَلُوا ذَلِكَ بِهَا، خَالِطُوا النَّاسَ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَأَجْسَادِكُمْ، وَزَايِلُوهُمْ بِأَعْمَالِكُمْ وَقُلُوبِكُمْ، فَإِنَّ لِلْمَرْءِ مَا اكْتَسَبَ، وَهُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ مَنْ أَحَبَّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوصادق نے ربیعہ بن ناجذ سے روایت کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگوں کے درمیان ایسے رہو جیسے پرندوں میں شہد کی مکھی رہتی ہے کہ ہر پرندہ اسے ضعیف و ناتواں سمجھتا ہے، اور اگر پرندے یہ جان لیں کہ اس کے پیٹ میں کیسی برکت ہے تو وہ اس کو حقیر نہ جانیں، لوگوں سے اپنی زبان، اجسام کے ساتھ میل ملاپ رکھو اور اپنے اعمال و قلوب کے ساتھ علاحدگی رکھو کیونکہ آدمی کے لئے وہی ہے جو اس نے کمایا، اور وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ ہو گا جس سے اس نے محبت کی۔
حدیث نمبر: 320
أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، حَدَّثَنِي بَقِيَّةُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "نِعْمَ وَزِيرُ الْعِلْمِ الرَّأْيُ الْحَسَنُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: اچھی رائے علم کا بہترین وزیر ہے۔
حدیث نمبر: 321
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: "كَفَى بِالْمَرْءِ عِلْمًا أَنْ يَخْشَى اللَّهَ، وَكَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا أَنْ يُعْجَبَ بِعِلْمِهِ". .
محمد الیاس بن عبدالقادر
مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: آدمی کے عالم ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے اور جاہل کے لئے کافی ہے کہ وہ اپنے علم پر گھمنڈ کرے۔
حدیث نمبر: 322
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، وقَالَ مَسْرُوقٌ: "الْمَرْءُ حَقِيقٌ أَنْ يَكُونَ لَهُ مَجَالِسُ يَخْلُو فِيهَا، فَيَذْكُرُ ذُنُوبَهُ، فَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ تَعَالَى مِنْهَا" ..
محمد الیاس بن عبدالقادر
مسلم بن صبیح نے کہا: مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: آدمی کو چاہیے کہ اس کے لئے ایسے اوقات و مجالس ہوں جن میں وہ اپنے گناہوں کو یاد کرے اور اللہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت طلب کرے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 317 سے 322)
ان روایات میں نفس کی پیروی سے بچنے، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے اور اچھے عمل کرنے کی ترغیب ہے۔
ان روایات میں نفس کی پیروی سے بچنے، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے اور اچھے عمل کرنے کی ترغیب ہے۔