حدیث نمبر: 206
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ هُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ قَالَ: قَالَ لِي الشَّعْبِيُّ: "مَا حَدَّثُوكَ هَؤُلَاءِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخُذْ بِهِ، وَمَا قَالُوهُ بِرَأْيِهِمْ، فَأَلْقِهِ فِي الْحُشِّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مالک بن مغول سے مروی ہے کہ مجھ سے امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: یہ لوگ تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حدیث بیان کریں اسے لے لو اور جو چیز اپنی رائے سے بیان کریں اسے گھورے پر پھینک دو۔
حدیث نمبر: 207
أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ، يَقُولُ: "قَدْ رَضِيتُ مِنْ أَهْلِ زَمَانِي هَؤُلَاءِ أَنْ لَا يَسْأَلُونِي وَلَا أَسْأَلُهُمْ، إِنَّمَا يَقُولُ أَحَدُهُمْ أَرَأَيْتَ، أَرَأَيْتَ ؟".
محمد الیاس بن عبدالقادر
زید بن حباب سے مروی ہے رجاء بن ابی سلمہ نے مجھے خبر دی کہ میں نے عبدہ بن ابی لبابہ کو کہتے سنا: میں اپنے ان ہم عصر ساتھیوں سے خوش ہوں جو نہ مجھ سے کچھ پوچھتے ہیں اور نہ میں ہی ان سے کوئی سوال کرتا ہوں، ان میں سے کوئی کہتا ہے: تمہاری کیا رائے ہے، تمہارا کیا خیال ہے؟
حدیث نمبر: 208
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: خَطَّ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَطًّا، ثُمَّ قَالَ: "هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ"، ثُمَّ خَطَّ خُطُوطًا عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: "هَذِهِ سُبُلٌ عَلَى كُلِّ سَبِيلٍ مِنْهَا شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ، ثُمَّ تَلَا: وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ سورة الأنعام آية 153".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک دن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک خط کھینچا اور فرمایا: ”یہ اللہ کا راستہ ہے“، پھر اس کے دائیں بائیں اور خط کھینچے اور فرمایا: ”یہ جو راستے ہیں، ہر راستے پر شیطان کھڑا ہے اور اسی طرف بلاتا ہے۔“ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «﴿وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ﴾» [انعام: 153/6] یہ میرا راستہ ہے جو مستقیم (سیدها) ہے، سو تم اسی راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو، وہ راہیں تمہیں اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 205 سے 208)
اس حدیث سے معلوم ہوا شاہراہِ سنّت باعثِ نجات ہے اور باقی سب راہیں شیطانی اور گمراہی کی طرف لے جانے والی ہیں «(أعاذني اللّٰه وإياكم منها)» ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا شاہراہِ سنّت باعثِ نجات ہے اور باقی سب راہیں شیطانی اور گمراہی کی طرف لے جانے والی ہیں «(أعاذني اللّٰه وإياكم منها)» ۔
حدیث نمبر: 209
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ سورة الأنعام آية 153، قَالَ: "الْبِدَعَ وَالشُّبُهَاتِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
(مفسر قرآن) مجاہد رحمہ اللہ نے «﴿وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ﴾» کی تفسیر میں کہا: یعنی بدعات و شبہات کے پیچھے نہ پڑو۔
حدیث نمبر: 210
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا نَجْلِسُ عَلَى بَابِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَإِذَا خَرَجَ، مَشَيْنَا مَعَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَجَاءَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَخَرَجَ إِلَيْكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَعْدُ ؟، قُلْنَا: لَا، فَجَلَسَ مَعَنَا حَتَّى خَرَجَ، فَلَمَّا خَرَجَ، قُمْنَا إِلَيْهِ جَمِيعًا، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَسْجِدِ آنِفًا أَمْرًا أَنْكَرْتُهُ وَلَمْ أَرَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ إِلَّا خَيْرًا، قَالَ: فَمَا هُوَ ؟، فَقَالَ: إِنْ عِشْتَ فَسَتَرَاهُ، قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَسْجِدِ قَوْمًا حِلَقًا جُلُوسًا يَنْتَظِرُونَ الصَّلَاةَ فِي كُلِّ حَلْقَةٍ رَجُلٌ، وَفِي أَيْدِيهِمْ حَصَا، فَيَقُولُ: كَبِّرُوا مِائَةً، فَيُكَبِّرُونَ مِائَةً، فَيَقُولُ: هَلِّلُوا مِائَةً، فَيُهَلِّلُونَ مِائَةً، وَيَقُولُ: سَبِّحُوا مِائَةً، فَيُسَبِّحُونَ مِائَةً، قَالَ: فَمَاذَا قُلْتَ لَهُمْ ؟، قَالَ: مَا قُلْتُ لَهُمْ شَيْئًا انْتِظَارَ رَأْيِكَ أَوِ انْتِظَارَ أَمْرِكَ، قَالَ: أَفَلَا أَمَرْتَهُمْ أَنْ يَعُدُّوا سَيِّئَاتِهِمْ، وَضَمِنْتَ لَهُمْ أَنْ لَا يَضِيعَ مِنْ حَسَنَاتِهِمْ ؟ ثُمَّ مَضَى وَمَضَيْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَى حَلْقَةً مِنْ تِلْكَ الْحِلَقِ، فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: مَا هَذَا الَّذِي أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَ ؟، قَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَصًا نَعُدُّ بِهِ التَّكْبِيرَ، وَالتَّهْلِيلَ، وَالتَّسْبِيحَ، قَالَ: "فَعُدُّوا سَيِّئَاتِكُمْ، فَأَنَا ضَامِنٌ أَنْ لَا يَضِيعَ مِنْ حَسَنَاتِكُمْ شَيْءٌ، وَيْحَكُمْ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، مَا أَسْرَعَ هَلَكَتَكُمْ ! هَؤُلَاءِ صَحَابَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ، وَهَذِهِ ثِيَابُهُ لَمْ تَبْلَ، وَآنِيَتُهُ لَمْ تُكْسَرْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّكُمْ لَعَلَى مِلَّةٍ هِيَ أَهْدَى مِنْ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ، أَوْ مُفْتَتِحُو بَابِ ضَلَالَةٍ"، قَالُوا: وَاللَّهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا أَرَدْنَا إِلَّا الْخَيْرَ، قَالَ: "وَكَمْ مِنْ مُرِيدٍ لِلْخَيْرِ لَنْ يُصِيبَهُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّ قَوْمًا يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، وَايْمُ اللَّهِ مَا أَدْرِي لَعَلَّ أَكْثَرَهُمْ مِنْكُمْ"، ثُمَّ تَوَلَّى عَنْهُمْ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ: رَأَيْنَا عَامَّةَ أُولَئِكَ الْحِلَقِ يُطَاعِنُونَا يَوْمَ النَّهْرَوَانِ مَعَ الْخَوَارِجِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
عمرو بن یحییٰ نے خبر دی کہ میں نے اپنے باپ سے سنا، انہوں نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ظہر کی نماز سے پہلے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھا کرتے تھے، جب وہ (گھر سے) نکلتے تو ہم ان کے ساتھ مسجد کی طرف روانہ ہوتے، ایک دن ہمارے پاس سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے اور پوچھا: کیا ابوعبدالرحمن (سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی کنیت) باہر نکلے؟ ہم نے کہا: نہیں ابھی تک تو نہیں نکلے، تو وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے، لہٰذا جب سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ باہر آئے تو ہم سب ان کے لئے کھڑے ہو گئے، سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! میں نے ابھی ابھی مسجد میں ایسی بات دیکھی ہے جو مجھے ناگوار گزری ہے حالانکہ الحمد للہ وہ بہتر اور اچھی ہی ہو گی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا بات ہے؟ کہا: آپ وہاں پہنچ کر خود دیکھ لیں گے، پھر کہا: میں نے وہاں کچھ لوگوں کی جماعت دیکھی جو حلقوں کی صورت میں بیٹھے نماز کا انتظار کر رہے ہیں، ہر حلقے میں ایک آدمی ہے اور ان کے ہاتھوں میں کنکریاں ہیں، وہ آدمی ان سے کہتا ہے: سو بار اللہ اکبر کہو تو وہ (ان کنکریوں کو گن کر) سو بار اللہ اکبر کہتے ہیں، پھر وہ شخص کہتا ہے: سو بار لا إلٰہ إلا اللہ کہو تو (اس طرح) وہ سو بار لا إلٰہ إلا اللہ کہتے ہیں، وہ کہتا ہے: سو بار سبحان الله کہو تو وہ اس طرح سو بار سبحان اللہ کہتے ہیں۔ سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر تم نے ان سے کیا کہا؟ انہوں نے کہا: میں نے آپ کی رائے یا حکم کے انتظار میں ان سے کچھ نہیں کہا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے انہیں یہ حکم کیوں نہ دیا کہ ان کنکریوں سے وہ اپنے گناہ شمار کریں اور تم نے انہیں اس بات کی ضمانت دیدی کہ ان کی نیکیوں میں سے کچھ برباد نہ ہوا۔ پھر وہ چل پڑے، ہم بھی ان کے ساتھ روانہ ہوئے یہاں تک کہ ان حلقوں میں سے ایک حلقے کے پاس آ کر وہ کھڑے ہوئے اور کہا: یہ میں تمہیں کیا کرتے دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! یہ کنکریاں ہیں ہم ان کے ذریعے تکبیر تہلیل اور تسبیح کی تعداد گنتے ہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اپنی برائیاں گنو، تو میں ضمانت دیتا ہوں کہ تمہاری نیکیوں میں سے کچھ بھی ضائع نہ ہو گا، اے امت محمد! تمہاری خرابی ہوئی، کتنی جلدی تم ہلاکت و بربادی میں پڑ گئے، ابھی تو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے صحابہ موجود ہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے بھی میلے نہیں ہوئے، نہ آپ کے برتن ٹوٹے ہیں، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کیا تم ملت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہدایت یافتہ ملت کے راستے پر ہو یا گمراہی و ضلالت کا دروازہ کھول رہے ہو۔ انہوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہمارا ارادہ صرف نیکی و بھلائی کا ہی تھا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسی بھلائی کے متلاشی کبھی بھلائی و نیکی حاصل نہ کر سکیں گے، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ ایک جماعت ہو گی جو قرآن پڑھے گی تو وہ اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، قسم اللہ کی ہو سکتا ہے ایسے اکثر لوگ تم ہی میں سے ہوں گے۔ پھر آپ ان کے پاس سے ہٹ گئے، عمرو بن سلمہ نے کہا: ہم نے ان حلقات کے عام آدمیوں کو دیکھا جو واقعہ نہروان کے دن خوارج کے ساتھ ہمیں پر تیر برسا رہے تھے (یعنی وہی لوگ خوارج کا ساتھ دے رہے تھے)۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 208 سے 210)
اس طویل اثر و حدیث میں بدعت کی شدید مذمت اور کنکریوں یا تسبیح کے دانوں پر تسبیح و تہلیل اور تکبیر پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار ہے، اور یہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا شدید رد عمل ہے۔
آج ان کی بات کو دلیل بنانے والے ہی ان کی مخالفت کرتے ہیں اور ہاتھوں میں تسبیح لئے گھومتے پھرتے ہیں۔
اس میں صحابہ کرام کا ایک دوسرے کے ساتھ احترام کرنا بھی ثابت ہوتا ہے جو باعثِ اتباع و عبرت ہے۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی کہ ایک جماعت ایسی پیدا ہوگی جو قرآن پڑھے گی لیکن بے عمل ہوگی، قرآن و حدیث کی اتباع چھوڑ کر اپنے نفس اور شیطان کی اتباع کرے گی اور دینی اُمور میں اپنی من مانی کرے گی، اور خوارج کی صورت میں یہ پیشین گوئی بالکل درست ثابت ہوئی۔
اس طویل اثر و حدیث میں بدعت کی شدید مذمت اور کنکریوں یا تسبیح کے دانوں پر تسبیح و تہلیل اور تکبیر پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار ہے، اور یہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا شدید رد عمل ہے۔
آج ان کی بات کو دلیل بنانے والے ہی ان کی مخالفت کرتے ہیں اور ہاتھوں میں تسبیح لئے گھومتے پھرتے ہیں۔
اس میں صحابہ کرام کا ایک دوسرے کے ساتھ احترام کرنا بھی ثابت ہوتا ہے جو باعثِ اتباع و عبرت ہے۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی کہ ایک جماعت ایسی پیدا ہوگی جو قرآن پڑھے گی لیکن بے عمل ہوگی، قرآن و حدیث کی اتباع چھوڑ کر اپنے نفس اور شیطان کی اتباع کرے گی اور دینی اُمور میں اپنی من مانی کرے گی، اور خوارج کی صورت میں یہ پیشین گوئی بالکل درست ثابت ہوئی۔
حدیث نمبر: 211
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "اتَّبِعُوا، وَلَا تَبْتَدِعُوا، فَقَدْ كُفِيتُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوعبدالرحمٰن (عبداللہ بن حبیب) سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اتباع کرو گے، ابتداع سے بچو گے تو تمہارے لئے یہی کافی ہے۔
حدیث نمبر: 212
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ أَفْضَلَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر بن عبدالله انصاری رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے خطبہ دیا الله تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: ”سب سے بہترین راستہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور بدترین کام نئی چیزیں (بدعت) ایجاد کرنا ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“
حدیث نمبر: 213
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْفَزَارِيِّ، عَنْ أَسْلَمَ الْمِنْقَرِيِّ، عَنْ بِلَادِ بْنِ عِصْمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: وَكَانَ إِذَا كَانَ عَشِيَّةَ الْخَمِيسِ لَيْلَةِ الْجُمُعَةِ، قَامَ فَقَالَ: "إِنَّ أَصْدَقَ الْقَوْلِ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنَّ أَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، وَإِنَّ شَرَّ الرَّوَايَا رَوَايَا الْكَذِبِ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مَا هُوَ آتٍ قَرِيبٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
بلاز بن عصمۃ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا، وہ جمعرات کی شام یعنی جمعہ والی رات کو کھڑے ہوئے اور فرمایا: سب سے سچا قول اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، اور سب سے اچھا راستہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہے، اور بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں ہی بدبخت قرار دے دیا گیا، اور سب سے بدترین سوچ و فکر (یا قول و فعل) جھوٹی سوچ و فکر ہے، اور بدترین کام بدعت ایجاد کرنا ہے، اور ہر آنے والی چیز قریب ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 210 سے 213)
ان تمام آثار و احادیث سے سنّت کی اہمیت ثابت ہوتی ہے اور بدعت کی مذمت و برائی معلوم ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سب کو اس سے بچائے۔
آمین
ان تمام آثار و احادیث سے سنّت کی اہمیت ثابت ہوتی ہے اور بدعت کی مذمت و برائی معلوم ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سب کو اس سے بچائے۔
آمین
حدیث نمبر: 214
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْفَزَارِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: "مَا أَخَذَ رَجُلٌ بِبِدْعَةٍ فَرَاجَعَ سُنَّةً".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: کوئی آدمی بدعت کو پکڑتا ہے تو سنت سے تراجع کر لیتا ہے۔ (یعنی بدعت ایجاد ہوتی ہے تو سنت پس پشت چلی جاتی ہے)۔
حدیث نمبر: 215
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنی امت میں گمراہ کرنے والے اماموں (حاکموں) سے ڈرتا ہوں۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 213 سے 215)
یعنی آپ کی اُمّت میں ایسے امام پیدا ہوں گے جو لوگوں کو گمراہ کریں گے۔
یعنی آپ کی اُمّت میں ایسے امام پیدا ہوں گے جو لوگوں کو گمراہ کریں گے۔
حدیث نمبر: 216
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو الْوَلِيدِ الْهَرَوِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ حَيَّةَ بِنْتِ أَبِي حَيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ بِالظَّهِيرَةِ، فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ ؟، قَالَ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي فِي بُغَاءٍ لَنَا، فَانْطَلَقَ صَاحِبِي يَبْغِي، وَدَخَلْتُ أَنَا أَسْتَظِلُّ بِالظِّلِّ، وَأَشْرَبُ مِنْ الشَّرَابِ، فَقُمْتُ إِلَى لُبَيْنَةٍ حَامِضَةٍ، ورُبَّمَا قَالَتْ: فَقُمْتُ إِلَى ضَيْحَةٍ حَامِضَةٍ، فَسَقَيْتُهُ مِنْهَا، فَشَرِبَ، وَشَرِبْتُ، قَالَتْ: وَتَوَسَّمْتُهُ فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ مَنْ أَنْتَ ؟، فَقَالَ أَنَا أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: أَنْتَ أَبُو بَكْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي سَمِعْتُ بِهِ ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَذَكَرْتُ غَزْوَنَا خَثْعَمًا، وَغَزْوَةَ بَعْضِنَا بَعْضًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنْ الْأُلْفَةِ وَأَطْنَابِ الْفَسَاطِيطِ وَشَبَّكَ ابْنُ عَوْنٍ أَصَابِعَهُ، وَوَصَفَهُ لَنَا مُعَاذٌ، وَشَبَّكَ أَحْمَدُ، فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، حَتَّى مَتَى تَرَى أَمْرَ النَّاسِ هَذَا ؟، قَالَ: "مَا اسْتَقَامَتْ الْأَئِمَّةُ"، قُلْتُ: مَا الْأَئِمَّةُ ؟، قَالَ: "أَمَا رَأَيْتِ السَّيِّدَ يَكُونُ فِي الْحِوَاءِ فَيَتَّبِعُونَهُ، وَيُطِيعُونَهُ ؟ فَمَا اسْتَقَامَ أُولَئِكَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حیۃ بنت ابی حیۃ نے کہا: دوپہر کے وقت ہمارے پاس ایک آدمی آیا، میں نے کہا: اللہ کے بندے! تم کہاں سے آ رہے ہو؟ تو اس نے کہا: میں اور میرا ساتھی بھٹکے ہوئے کی تلاش میں آئے تھے، میرا ساتھی تلاش میں نکل گیا اور میں سائے اور پانی کی تلاش میں یہاں آ گیا، حیۃ نے کہا: میں مٹی کا مٹھا لائی اور اسے پلایا، اس نے پیا اور میں نے بھی پیا، میں نے تعارف کے لئے پوچھا: اللہ کے بندے! تم کون ہو؟ تو اس نے کہا: میں ابوبکر ہوں، میں نے کہا: وہی ابوبکر جن کے بارے میں میں نے سنا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یار غار ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں وہی۔ حیہ نے کہا: میں نے خثعم سے اور جاہلیت میں بعض کا بعض کے ساتھ غزوے کا ذکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے جو الفت و محبت پیدا کی اور ان خیموں کا ذکر کیا۔ عبداللہ بن عون نے اپنی انگلیاں انگلیوں میں داخل کیں، معاذ بن معاذ نے بھی ایسا ہی کر کے بتایا، احمد اور ان کے استاد احمد بن عبداللہ نے بھی ایسا ہی کیا۔ میں نے کہا: اے عبدالله! کب تک تمہارا خیال ہے کہ ایسا ہی معاملہ چلتا رہے گا؟ کہا: جب تک ائمہ یا حکام سیدھے (راهِ مستقیم) پر رہیں گے۔ میں نے کہا: ائمہ سے مراد کیا ہے؟ کہا: کیا تم نے دیکھا نہیں کہ سید (مالک) جب گھر میں ہوتا ہے تو لوگ اس کی پیروی و اطاعت بجا لاتے ہیں، پس جب تک وہ راہ مستقیم پر رہیں گے۔
حدیث نمبر: 217
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَخٍ لِعَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سب سے زیادہ تمہارے بارے میں جس چیز سے ڈرتا ہوں وہ گمراہ کرنے والے حکام (ائمہ) ہیں۔“
حدیث نمبر: 218
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بَيَانٍ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ أَحْمَسَ يُقَالُ لَهَا زَيْنَبُ، قَالَ: فَرَآهَا لَا تَتَكَلَّمُ، فَقَالَ: "مَا لَهَا لَا تَتَكَلَّمُ ؟"، قَالُوا: نَوَتْ حَجَّةً مُصْمِتَةً، فَقَالَ لَهَا: "تَكَلَّمِي، فَإِنَّ هَذَا لَا يَحِلُّ، هَذَا مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ"، قَالَ: فَتَكَلَّمَتْ، فَقَالَتْ: مَنْ أَنْتَ، قَالَ: أَنَا امْرُؤٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ، قَالَتْ: مِنْ أَيِّ الْمُهَاجِرِينَ ؟، قَالَ: مِنْ قُرَيْشٍ، قَالَتْ: فَمِنْ أَيِّ قُرَيْشٍ أَنْتَ ؟، قَالَ: إِنَّكِ لَسَئُولٌ، أَنَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَتْ: مَا بَقَاؤُنَا عَلَى هَذَا الْأَمْرِ الصَّالِحِ الَّذِي جَاءَ اللَّهُ بِهِ بَعْدَ الْجَاهِلِيَّةِ ؟، فَقَالَ: بَقَاؤُكُمْ عَلَيْهِ مَا اسْتَقَامَتْ بِكُمْ أَئِمَّتُكُمْ، قَالَتْ: وَمَا الْأَئِمَّةُ ؟، قَالَ: أَمَا كَانَ لِقَوْمِكِ رُؤَسَاءُ وَأَشْرَافٌ، يَأْمُرُونَهُمْ فَيُطِيعُونَهُمْ ؟، قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَهُمْ مِثْلُ أُولَئِكَ عَلَى النَّاسِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ قبیلہ احمس کی ایک عورت سے ملے جس کا نام زینب تھا، آپ نے دیکھا کہ وہ بات ہی نہیں کرتی ہے، پوچھا: کیا بات ہے یہ بات کیوں نہیں کرتی؟ کہا گیا کہ نذر مانی ہے کہ چپی لگا کر حج کرے گی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کہو بات کرے، یہ جائز نہیں، یہ تو دور جاہلیت کی رسم ہے۔ راوی نے کہا: وہ بات کرنے لگی اور پوچھا: آپ کون ہیں؟ جواب دیا میں مہاجرین کا ایک فرد ہوں، عورت نے کہا: کون سے مہاجرین کے کس قبیلے سے ہیں؟ کہا: قریش میں سے ہوں، عورت نے دریافت کیا: قریش کے کس خاندان سے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم تو بڑی سوال کرنے والی ہو، میں ابوبکر ہوں، کہنے لگی، جاہلیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں یہ دین عطا فرمایا ہے اس پر ہم کب تک قائم رہ سکیں گے؟ کہا: کہ اس حالت پر اس وقت تک قائم رہیں گے جب تک تمہارے ائمہ درست رہیں گے، اس نے کہا: ائمہ سے مراد کیا ہے؟ کہا: کیا تمہاری قوم میں سردار اور اشراف لوگ نہیں ہیں جو آ کر حکم دیں تو لوگ ان کی پیروی کریں؟ اس نے کہا: جی ہاں کیوں نہیں؟ فرمایا: لوگوں پر اس طرح کے (حاکم) ہوں گے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 215 سے 218)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایسی نذر جس میں مشقت ہو پوری کرنا ضروری نہیں، بلکہ اس کا کفارہ ادا کر کے اسے توڑا جا سکتا ہے، جیسا کہ ابواسرائیل کی حدیث میں پیدل چل کر حج کرنے کی نذر تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تڑوا کر سوار ہونے کا حکم دیا۔
اس حدیث میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تواضع اور خاکساری، نیز اس بات کی نشاندہی ہے کہ ائمہ و حکام جب تک درست و صالح رہیں گے خیرات و برکات کا نزول ہوتا رہے گا، اور جب ان میں بد دیانتی، بے راہ روی آئے گی تو سب کی بربادی ہے۔
واللہ اعلم۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایسی نذر جس میں مشقت ہو پوری کرنا ضروری نہیں، بلکہ اس کا کفارہ ادا کر کے اسے توڑا جا سکتا ہے، جیسا کہ ابواسرائیل کی حدیث میں پیدل چل کر حج کرنے کی نذر تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تڑوا کر سوار ہونے کا حکم دیا۔
اس حدیث میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تواضع اور خاکساری، نیز اس بات کی نشاندہی ہے کہ ائمہ و حکام جب تک درست و صالح رہیں گے خیرات و برکات کا نزول ہوتا رہے گا، اور جب ان میں بد دیانتی، بے راہ روی آئے گی تو سب کی بربادی ہے۔
واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 219
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا عَائِذَةُ، قَالَتْ: رَأَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُوصِي الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ، وَيَقُولُ: "مَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ مِنْ امْرَأَةٍ، أَوْ رَجُلٍ، فَالسَّمْتَ الْأَوَّلَ، فَإِنَّكُمْ عَلَى الْفِطْرَةِ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: السَّمْتُ الطَّرِيقُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
واصل نے ایک عورت سے روایت کیا جس کا نام عائذہ تھا اس نے کہا: میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ عورتوں اور مردوں کو وصیت کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: تم میں سے جو کوئی بھی مرد یا عورت وہ زمانہ پائے تو اسلاف کا طریقہ لازم پکڑے، انہیں کے طریق پر رہے تو تم فطرت پر رہو گے۔ عبداللہ نے کہا: «السمت» سے مراد طریقہ ہے۔
حدیث نمبر: 220
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ، قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ: هَلْ تَعْرِفُ مَا يَهْدِمُ الْإِسْلَامَ ؟، قُلْتُ: لَا، قَالَ: "يَهْدِمُهُ زَلَّةُ الْعَالِمِ، وَجِدَالُ الْمُنَافِقِ بِالْكِتَابِ، وَحُكْمُ الْأَئِمَّةِ الْمُضِلِّينَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
زیاد بن حدیر سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: جانتے ہو اسلام کو کون سی چیز منہدم کر دے گی؟ میں نے کہا: نہیں، فرمایا: عالم کی غلطی، منافق کا کتاب اللہ میں بحث و مباحثہ یا جدال، اور گمراہ کرنے والے ائمہ کا حکم۔ (یعنی عالم کی غلطی، منافق کا جدال، اور گمراه اماموں یا حکام کا حکم اسلام کو ڈھا دے گا، اس کی عمارت کو منہدم کر دے گا)۔
حدیث نمبر: 221
أَخْبَرَنَا هَارُونُ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: "لَا تُجَالِسُوا أَصْحَابَ الْخُصُومَاتِ، فَإِنَّهُمْ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
محمد بن علی نے کہا: فلسفی لوگوں کے پاس نہ بیٹھو، یہ الله تعالیٰ کی آیات میں عیب نکالتے ہیں (یا عیب جوئی کرتے ہیں)۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 218 سے 221)
گرچہ اس اثر کی سند میں ضعف ہے لیکن یہ بات سورة انعام کی آیت نمبر (68) کے عین مطابق ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (ترجمہ: ”اور آپ جب ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات میں عیب جوئی کر رہے ہیں، تو ان لوگوں سے کنارہ کش ہو جائیں یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں، اور اگر آپ کو شیطان بھلا دے تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالموں کے پاس نہ بیٹھیں“)۔
گرچہ اس اثر کی سند میں ضعف ہے لیکن یہ بات سورة انعام کی آیت نمبر (68) کے عین مطابق ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (ترجمہ: ”اور آپ جب ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات میں عیب جوئی کر رہے ہیں، تو ان لوگوں سے کنارہ کش ہو جائیں یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں، اور اگر آپ کو شیطان بھلا دے تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالموں کے پاس نہ بیٹھیں“)۔
حدیث نمبر: 222
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شريك، عَنْ مُبَارَكٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "سُنَّتُكُمْ وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ بَيْنَهُمَا: بَيْنَ الْغَالِي وَالْجَافِي، فَاصْبِرُوا عَلَيْهَا رَحِمَكُمْ اللَّهُ، فَإِنَّ أَهْلَ السُّنَّةِ كَانُوا أَقَلَّ النَّاسِ فِيمَا مَضَى، وَهُمْ أَقَلُّ النَّاسِ فِيمَا بَقِيَ: الَّذِينَ لَمْ يَذْهَبُوا مَعَ أَهْلِ الْإِتْرَافِ فِي إِتْرَافِهِمْ، وَلَا مَعَ أَهْلِ الْبِدَعِ فِي بِدَعِهِمْ، وَصَبَرُوا عَلَى سُنَّتِهِمْ حَتَّى لَقُوا رَبَّهُمْ، فَكَذَلِكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَكُونُوا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن رحمہ اللہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں تمہاری سنت (کی پیروی) غلو کرنے والے یا اعراض کرنے والے کے مابین ہے، پس تم اس درمیانی راستے کو اپناؤ اللہ تم پر رحم فرمائے، پچھلے زمانے میں بھی سنت کے شیدائی لوگوں میں سب سے کم تھے اور آنے والے باقی زمانے میں بھی سب سے کم ہوں گے، جنہوں نے سرکش لوگوں کی ان کی سرکشتی میں، اور بدعتیوں کی ان کی بدعت میں پیروی نہیں کی، اور اپنے سنت طریقے پر جمے رہے یہاں تک کہ اپنے رب سے جا ملے، سو تم بھی اللہ کے حکم سے انہیں کی طرح ہو جاؤ۔
حدیث نمبر: 223
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، وَمَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "الْقَصْدُ فِي السُّنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الِاجْتِهَادِ فِي الْبِدْعَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سنت کی میانہ روی بدعت میں مشقت برداشت کرنے سے بہتر ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 221 سے 223)
ان تمام آثار و احادیث سے ثابت ہوا کہ: سنّت کو لازم پکڑنا چاہئے اور بدعت سے، بدعتی سے، نیز رائے زنی اور قیاس آرائی سے بچنا چاہئے۔
ان تمام آثار و احادیث سے ثابت ہوا کہ: سنّت کو لازم پکڑنا چاہئے اور بدعت سے، بدعتی سے، نیز رائے زنی اور قیاس آرائی سے بچنا چاہئے۔