حدیث نمبر: 176
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: "إِنَّ الَّذِي يُفْتِي النَّاسَ فِي كُلِّ مَا يُسْتَفْتَى لَمَجْنُونٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کوئی بھی شخص جو کچھ بھی اس سے پوچھا جائے وہ اس کا جواب دیدے تو وہ پاگل ہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 175)
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں، جس کی واقعی ضرورت ہو اسی کا جواب دینا چاہیے اور جو چیز معلوم نہ ہو اس کا جواب دینے کی تکلیف نہیں کرنی چاہیے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں، جس کی واقعی ضرورت ہو اسی کا جواب دینا چاہیے اور جو چیز معلوم نہ ہو اس کا جواب دینے کی تکلیف نہیں کرنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 177
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِنَّمَا يُفْتِي النَّاسَ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ إِمَامٌ أَوْ وَالٍ، وَرَجُلٌ يَعْلَمُ نَاسِخَ الْقُرْآنِ مِنْ الْمَنْسُوخِ"، قَالُوا: يَا حُذَيْفَةُ، وَمَنْ ذَاكَ ؟، قَالَ: "عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَوْ أَحْمَقُ مُتَكَلِّفٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین قسم کے آدمی فتویٰ دے سکتے ہیں، امام یا والی حکومت یا وہ آدمی جو قرآن کے ناسخ و منسوخ کا عالم ہو، لوگوں نے پوچھا : ایسا کون ہو سکتا ہے؟ کہا: یا تو سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ یا پھر تکلف کرنے والا احمق بےوقوف۔
حدیث نمبر: 178
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "إِنَّمَا يُفْتِي النَّاسَ أَحَدُ ثَلَاثَةٍ: رَجُلٌ عَلِمَ نَاسِخَ الْقُرْآنِ مِنْ مَنْسُوخِهِ"، قَالُوا: وَمَنْ ذَاكَ ؟، قَالَ: "عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: وَأَمِيرٌ لَا يَجِدُ بُدًّا، أَوْ أَحْمَقُ مُتَكَلِّفٌ"، ثُمَّ قَالَ مُحَمَّدٌ: فَلَسْتُ بِوَاحِدٍ مِنْ هَذَيْنِ، وَأَرْجُو أَنْ لَا أَكُونَ الثَّالِثَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین میں سے کوئی ایک فتویٰ دے سکتا ہے۔ جو ناسخ و منسوخ کا علم رکھتا ہو، لوگوں نے کہا: ایسا کون ہے؟ فرمایا: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، یا ایسا امیر جس کو فتویٰ دیئے بنا کوئی چارہ نہ ہو، یا تکلف کرنے والا احمق۔ پھر محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے کہا: میں ان دو (یعنی حاکم و والی) میں سے تو ہوں نہیں، اور آرزو رکھتا ہوں کہ تیسرا (احمق متکلف) بھی نہ بنوں۔
حدیث نمبر: 179
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ عِلْمًا، فَلْيَقُلْ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ، فَلْيَقُلْ لِمَا لَا يَعْلَمُ: اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ: الْعَالِمَ إِذَا سُئِلَ عَمَّا لَا يَعْلَمُ، قَالَ: اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْلَمُ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ لِرَسُولِهِ: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں سے جس کے پاس علم ہو اس کو ظاہر کرے، اور جس کو علم نہ ہو تو جو جانتا نہیں ہے اس کے بارے میں کہدے: «لا أعلم» (یعنی مجھے علم نہیں) کیونکہ عالم سے ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جس کا اسے علم نہیں تو وہ «الله أعلم» کہے، جیسا کہ الله تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ”کہہ دیجئے میں اس پر تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا، اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں“ [سورة ص: 86/38]
وضاحت:
(تشریح احادیث 176 سے 179)
اس اثر میں بلا علم فتویٰ دینے سے پرہیز کی تلقین اور کم علمی و تقصیر کے اعتراف کی ترغیب ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «﴿وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [الاسراء: 85]» ترجمہ: ”تم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
“ نیز اسلاف کرام نے «لا أعلم» کہنے کو بھی نصف علم گردانا ہے، اور علم نہ ہوتے ہوئے علمیت جتانا اور اس کا اظہار کرنا تکلف ہے، آیتِ شریفہ میں اس سے روکا گیا اور ارشاد ہوا: «﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ [سورة ص: 86]»
اس اثر میں بلا علم فتویٰ دینے سے پرہیز کی تلقین اور کم علمی و تقصیر کے اعتراف کی ترغیب ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «﴿وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [الاسراء: 85]» ترجمہ: ”تم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
“ نیز اسلاف کرام نے «لا أعلم» کہنے کو بھی نصف علم گردانا ہے، اور علم نہ ہوتے ہوئے علمیت جتانا اور اس کا اظہار کرنا تکلف ہے، آیتِ شریفہ میں اس سے روکا گیا اور ارشاد ہوا: «﴿قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ﴾ [سورة ص: 86]»
حدیث نمبر: 180
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، أَنَّ أَبَا مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: "مَنْ عَلِمَ عِلْمًا، فَلْيُعَلِّمْهُ النَّاسَ، وَإِيَّاهُ أَنْ يَقُولَ مَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ فَيَمْرُقَ مِنْ الدِّينِ وَيَكُونَ مِنْ الْمُتَكَلِّفِينَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالمہلب سے روایت ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے خطبہ کے دوران کہا: جس کو علم ہو وہ لوگوں کو سکھا دے، اور خبردار جس چیز کا علم نہ ہو اس کے بارے میں کچھ نہ کہے، اگر ایسا کیا تو وہ دین سے نکل جائے گا، اور تکلف کرنے والوں میں سے ہو گا۔
حدیث نمبر: 181
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، وَزَاذَانَ، قَالَا: قَالَ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ: "وَا بَرْدَهَا عَلَى الْكَبِدِ إِذَا سُئِلْتُ عَمَّا لَا أَعْلَمُ، أَنْ أَقُولَ: اللَّهُ أَعْلَمُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالبختری اور زاذان نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کتنی کلیجے کی ٹھنڈک ہے کہ جب مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جس کا مجھ کو علم نہیں اور میں کہدوں «الله أعلم» ”اللہ زیادہ جاننے والا ہے“ ۔
حدیث نمبر: 182
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، قَالَ: "يَا بَرْدَهَا عَلَى الْكَبِدِ أَنْ تَقُولَ لِمَا لَا تَعْلَمُ: اللَّهُ أَعْلَمُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالبختری نے روایت کیا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کتنا ہی اچھا ہو (کلیجے میں ٹھنڈک ہو) جس چیز کو تم نہ جانتے ہو کہدو: «الله أعلم»
حدیث نمبر: 183
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عُمَيْرُ بْنُ عَرْفَجَةَ، حَدَّثَنَا رَزِينٌ أَبُو النُّعْمَانِ، عَنْ عَلِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: "إِذَا سُئِلْتُمْ عَمَّا لَا تَعْلَمُونَ، فَاهْرُبُوا"، قَالُوا: وَكَيْفَ الْهَرَبُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟، قَالَ: "تَقُولُونَ: اللَّهُ أَعْلَمُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابونعمان رزین سے مروی ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سے جب ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جس کا تمہیں علم نہیں، تو اس کے جواب سے دور بھاگو۔ رزین نے کہا: امیر المؤمنین! بتایئے کیسے بھاگیں؟ فرمایا: «الله أعلم» کہہ دو۔
حدیث نمبر: 184
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ عَزْرَةَ التَّمِيمِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "وَا بَرْدَهَا عَلَى الْكَبِدِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ"، قَالُوا: وَمَا ذَلِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟، قَالَ: "أَنْ يُسْأَلَ الرَّجُلُ عَمَّا لَا يَعْلَمُ، فَيَقُولُ: اللَّهُ أَعْلَمُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عزرہ تمیمی سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تین بار فرمایا: کلیجے کی ٹھنڈک ہے، لوگوں نے کہا: کیا چیز اے امیر المؤمنین؟ فرمایا: یہ کہ آدمی سے ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جس کا اسے علم نہیں اور وہ کہدے: «الله أعلم»
وضاحت:
(تشریح احادیث 179 سے 184)
ان تمام آثار میں «اللّٰه أعلم» کہدینے سے قلبی سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے اس کا ذکر ہے، اور انسان بے جا تکلف سے بچ جاتا ہے۔
ان تمام آثار میں «اللّٰه أعلم» کہدینے سے قلبی سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے اس کا ذکر ہے، اور انسان بے جا تکلف سے بچ جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 185
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا، فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ، قَالَ بْنُ عُمَرَ: "نِعْمَ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ، سُئِلَ عَمَّا لَا يَعْلَمُ، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ہشام بن عروہ نے اپنے باپ (عروة) سے روایت کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے کوئی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے اس کا علم نہیں، جب وہ آدمی چلا گیا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ابن عمر نے جو کہا وہ ٹھیک ہے، ایسی چیز کے بارے میں ان سے پوچھا گیا جس کا انہیں علم نہیں تو کہہ دیا: مجھے اس کا علم نہیں۔
حدیث نمبر: 186
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "لَا أَدْرِي نِصْفُ الْعِلْمِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: «لا أدري» (میں نہیں جانتا ہوں کہنا) نصف علم ہے۔
حدیث نمبر: 187
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: "لَا عِلْمَ لِي، ثُمَّ الْتَفَتَ بَعْدَ أَنْ قَفَّي الرَّجُلُ، فَقَالَ: نِعْمَ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ ! يُسْأَلُ عَمَّا لَا يَعْلَمُ، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي"، يَعْنِي: ابْنُ عُمَرَ نَفْسَهُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
نافع نے کہا: ایک آدمی آیا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں، پھر جب وہ آدمی چلا گیا تو انہوں نے مڑ کر کہا: ابن عمر نے جو کہا وہ درست ہے۔ ان سے اس چیز کے بارے میں پوچھا جاتا ہے جس کا انہیں علم نہیں تو انہوں نے کہہ دیا: مجھے معلوم نہیں (یعنی خود ان سے)۔
حدیث نمبر: 188
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: "كَانَ عَامِرٌ إِذَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ، يَقُولُ: لَا أَدْرِي، فَإِنْ رُدُّوا عَلَيْهِ، قَالَ: إِنْ شِئْتَ كُنْتُ حَلَفْتُ لَكَ بِاللَّهِ إِنْ كَانَ لِي بِهِ عِلْمٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عامر الشعبی رضی اللہ عنہ سے جب کسی چیز کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ کہہ دیتے تھے «لا أدري» (میں نہیں جانتا ہوں)، اگر دوبارہ پوچھا جاتا تو سختی سے کہتے: میں تمہارے لئے اللہ کی قسم کھاتا ہوں اگر مجھے اس کا علم ہو (یعنی قسم اللہ کی مجھے اس کا علم نہیں)۔
حدیث نمبر: 189
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: "مَا أُبَالِي سُئِلْتُ عَمَّا أَعْلَمُ أَوْ مَا لَا أَعْلَمُ، لِأَنِّي إِذَا سُئِلْتُ عَمَّا أَعْلَمُ، قُلْتُ مَا أَعْلَمُ، وَإِذَا سُئِلْتُ عَمَّا لَا أَعْلَمُ قُلْتُ: لَا أَعْلَمُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
اشعث رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ امام محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: مجھ سے سوال کیا جائے مجھے اس کی پرواہ نہیں ہوتی کہ میں جانتا ہوں یا نہیں۔ اس لئے کہ جس چیز کے بارے میں سوال کیا جا تا ہے جانتا ہوں تو اسی کے مطابق جواب دیتا ہوں، نہیں جانتا تو کہدیتا ہوں «لا أعلم» کہ میں نہیں جانتا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 184 سے 189)
سبحان اللہ کیا سادگی اور تواضع ہے، عامر الشعبی بڑے پائے کے عالم ہیں لیکن کتنی سادگی سے کہتے ہیں: میں سوال سے گھبراتا نہیں اور نہ تکلف سے کام لیتا ہوں، کیوں کہ جو معلوم ہے وہ بتا دیتا ہوں، معلوم نہیں تو کہہ دیتا ہوں کہ مجھے اس کا علم نہیں۔
سبحان اللہ کیا سادگی اور تواضع ہے، عامر الشعبی بڑے پائے کے عالم ہیں لیکن کتنی سادگی سے کہتے ہیں: میں سوال سے گھبراتا نہیں اور نہ تکلف سے کام لیتا ہوں، کیوں کہ جو معلوم ہے وہ بتا دیتا ہوں، معلوم نہیں تو کہہ دیتا ہوں کہ مجھے اس کا علم نہیں۔
حدیث نمبر: 190
حَدَّثَنَا هَارُونُ، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: "مَا سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يَقُولُ قَطُّ: حَلَالٌ وَلَا حَرَامٌ، إِنَّمَا كَانَ يَقُولُ: كَانُوا يَتَكْرَهُونَ، وَكَانُوا يَسْتَحِبُّونَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
اعمش سے مروی ہے کہ میں نے امام ابراہیم النخعی رحمہ اللہ کو کبھی یہ کہتے نہیں سنا کہ یہ حلال اور یہ حرام ہے، بلکہ وہ کہتے تھے لوگ اسے مکروہ کہتے تھے یا لوگ اسے مستحب سمجھتے تھے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 189)
ان روایات سے ان فقہاء و محدثین اور علمائے حدیث کا مسئلے مسائل میں عدم تکلف اور اظہارِ حقیقت اور ان پاک نفوس کی فضیلت و اعلی مقام کا ثبوت ملتا ہے۔
ان روایات سے ان فقہاء و محدثین اور علمائے حدیث کا مسئلے مسائل میں عدم تکلف اور اظہارِ حقیقت اور ان پاک نفوس کی فضیلت و اعلی مقام کا ثبوت ملتا ہے۔