حدیث نمبر: 75
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الذِّكْرَ، وَيُقِلُّ اللَّغْوَ، وَيُطِيلُ الصَّلَاةَ، وَيُقْصِرُ الْخُطْبَةَ، وَلَا يَأْنَفُ وَلَا يَسْتَنْكِفُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ فَيَقْضِيَ لَهُمَا حَاجَتَهُمَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ذکر (الٰہی) زیادہ کرتے اور بے مقصد باتیں کم کرتے تھے، نماز لمبی پڑھتے اور خطبہ مختصر دیتے، نہ برا کہتے اور نہ گھمنڈ کرتے، بیوہ اور مسکین کے ساتھ چلتے اور ان کی ضرورت و حاجت پوری فرماتے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 75)
اس روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرِ الٰہی میں مشغول رہنا ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں بھی ہے: «كَانَ يَذْكُرُ اللّٰهَ عَلَىٰ كُلِّ أَحْيَانِهِ.» مسلم: (373)۔
بے مقصد باتیں کم کرنا۔
(یہ جملہ محل نظر ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے مقصد گفتگو کبھی نہیں فرماتے تھے)۔
اس میں نماز لمبی اور خطبہ مختصر دینے کا ثبوت ہے۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ کی ایک جھلک ہے کہ بوڑھے اور غریبوں کے ساتھ چلنے میں عار نہ سمجھتے، بلکہ ان کی حاجت روائی فرماتے۔
اس روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرِ الٰہی میں مشغول رہنا ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں بھی ہے: «كَانَ يَذْكُرُ اللّٰهَ عَلَىٰ كُلِّ أَحْيَانِهِ.» مسلم: (373)۔
بے مقصد باتیں کم کرنا۔
(یہ جملہ محل نظر ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے مقصد گفتگو کبھی نہیں فرماتے تھے)۔
اس میں نماز لمبی اور خطبہ مختصر دینے کا ثبوت ہے۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ کی ایک جھلک ہے کہ بوڑھے اور غریبوں کے ساتھ چلنے میں عار نہ سمجھتے، بلکہ ان کی حاجت روائی فرماتے۔