حدیث نمبر: 71
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ، فَقَالَ: لَا"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: إِذَا لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ وَعَدَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز مانگی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دینے سے انکار کیا ہو۔ امام دارمی ابومحمد نے کہا: ابن عیینہ نے بیان کیا اگر وہ چیز آپ کے پاس موجود نہ ہوتی تو دینے کا وعدہ فرما لیتے۔
حدیث نمبر: 72
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ زَمْعَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: "كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيِيًّا، لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے شرم والے تھے، کوئی بھی چیز آپ سے مانگی جاتی آپ اسے عنایت فرما دیتے۔
حدیث نمبر: 73
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، قالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْعَرَبِ، قَالَ: زَحَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَفِي رِجْلِي نَعْلٌ كَثِيفَةٌ، فَوَطِئْتُ بِهَا عَلَى رِجْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَفَحَنِي نَفْحَةً بِسَوْطٍ فِي يَدِهِ، وَقَالَ: "بِسْمِ اللَّهِ أَوْجَعْتَنِي"، قَالَ: فَبِتُّ لِنَفْسِي لَائِمًا، أَقُولُ: أَوْجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبِتُّ بِلَيْلَةٍ كَمَا يَعْلَمُ اللَّهُ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا، إِذَا رَجُلٌ يَقُولُ: أَيْنَ فُلَانٌ ؟، قَالَ: قُلْتُ: هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي كَانَ مِنِّي بِالْأَمْسِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مُتَخَوِّفٌ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّكَ وَطِئْتَ بِنَعْلِكَ عَلَى رِجْلِي بِالْأَمْسِ فَأَوْجَعْتَنِي، فَنَفَحْتُكَ نَفْحَةً بِالسَّوْطِ، فَهَذِهِ ثَمَانُونَ نَعْجَةً، فَخُذْهَا بِهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن ابی بکر نے عرب کے ایک آدمی سے روایت کیا (غزوہ) حنین کے دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشانی میں مبتلا کر دیا، میرے پیروں میں بھاری جوتے تھے جن سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم مبارک دبا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں موجود کوڑے سے سرزنش کی اور فرمایا: ”بسم اللہ، تم نے مجھے تکلیف دیدی۔“ راوی نے کہا میں پوری رات اپنے آپ کو ملامت کرتا رہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ پہنچایا، الله ہی بہتر جانتا ہے کیسے میری رات کٹی، جب صبح ہوئی تو ایک آدمی پکارتا ہے فلاں آدمی کہاں ہے؟ میں نے سوچا یہ کل کی گستاخی کی وجہ سے پکار ہو رہی ہے۔ میں ڈرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کل اپنے جوتے سے میرا قدم کچل کر مجھے تکلیف دی تو میں نے کوڑے سے تمہیں سرزنش کی تھی اس لئے لو یہ اسّی بھیڑیں انہیں اس سرزنش کے بدلے لے جاؤ۔“
حدیث نمبر: 74
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: إِنَّ جِبْرِيلَ، قَالَ: "مَا فِي الْأَرْضِ أَهْلُ عَشَرَةِ أَبْيَاتٍ إِلَّا قَلَّبْتُهُمْ، فَمَا وَجَدْتُ أَحَدًا أَشَدَّ إِنْفَاقًا لِهَذَا الْمَالِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام زہری رحمہ اللہ نے کہا کہ جبریل علیہ السلام نے فرمایا: روئے زمین پر کوئی دس گھر ایسے نہیں جن کو میں نے دیکھا نہ ہو لیکن کسی کو بھی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اس مال کو خرچ کرنے والا نہیں پایا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 71 سے 74)
ان تمام روایات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اور جود وکرم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، صحیحین کی روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے۔
دیکھئے: بخاری (3220)، مسلم (2308)۔
ان تمام روایات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اور جود وکرم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، صحیحین کی روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی تھے۔
دیکھئے: بخاری (3220)، مسلم (2308)۔