کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: سورۃ التوبہ کی اس آیت «قل لن يصيبنا إلا ما كتب الله لنا» کا بیان۔
حدیث نمبر: Q6619
قَضَى ، قَالَ مُجَاهِدٌ : بِفَاتِنِينَ بِمُضِلِّينَ إِلَّا مَنْ كَتَبَ اللَّهُ أَنَّهُ يَصْلَى الْجَحِيمَ قَدَّرَ فَهَدَى قَدَّرَ الشَّقَاءَ وَالسَّعَادَةَ وَهَدَى الْأَنْعَامَ لِمَرَاتِعِهَا " .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ «قل لن يصيبنا إلا ما كتب الله لنا‏» ” اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئیے کہ ہمیں صرف وہی درپیش آئے گا جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے ۔ “ اور مجاہد نے «بفاتنين‏» کی تفسیر میں کہا کہ تم کسی کو گمراہ نہیں کر سکتے مگر اس کو جس کی قسمت میں اللہ نے دوزخ لکھ دی ہے اور مجاہد نے آیت « والذى قدر فهدى‏» کی تفسیر میں کہا کہ جس نے نیک بختی اور بدبختی سب تقدیر میں لکھ دی اور جس نے جانوروں کو ان کی چراگاہ بتائی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب القدر / حدیث: Q6619
حدیث نمبر: 6619
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَخْبَرَتْهُ : أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ ؟ فَقَالَ : " كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ فَجَعَلَهُ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ ، مَا مِنْ عَبْدٍ يَكُونُ فِي بَلَدٍ يَكُونُ فِيهِ ، وَيَمْكُثُ فِيهِ لَا يَخْرُجُ مِنَ الْبَلَدِ ، صَابِرًا مُحْتَسِبًا ، يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُصِيبُهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ " .
مولانا داود راز
´مجھ سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ کو نضر نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم سے داؤد بن ابی الفرات نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ عذاب تھا اور اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اسے بھیجتا تھا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے مومنوں کے لیے رحمت بنا دیا ، کوئی بھی بندہ اگر کسی ایسے شہر میں ہے جس میں طاعون کی وبا پھوٹی ہوئی ہے اور اس میں ٹھہرا ہے اور اس شہر سے بھاگا نہیں صبر کئے ہوئے ہے اور اس پر اجر کا امیدوار ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اس تک صرف وہی چیز پہنچ سکتی ہے جو اللہ نے اس کی تقدیر میں لکھ دی ہے تو اسے شہید کے برابر ثواب ملے گا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب القدر / حدیث: 6619
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة