کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: اس بیان میں کہ مشرکوں کی اولاد کا حال اللہ ہی کو معلوم کہ اگر وہ بڑے ہوتے، زندہ رہتے تو کیسے عمل کرتے۔
حدیث نمبر: 6597
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابوبشر نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کو خوب معلوم ہے کہ وہ ( بڑے ہو کر ) کیا عمل کرتے ۔
حدیث نمبر: 6598
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے یونس نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے عطا بن یزید نے خبر دی ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے ۔
حدیث نمبر: 6599
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ ، وَيُنَصِّرَانِهِ كَمَا تُنْتِجُونَ الْبَهِيمَةَ ، هَلْ تَجِدُونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ؟ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا " .
مولانا داود راز
´مجھ سے اسحاق نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بچہ ایسا نہیں ہے جو فطرت پر نہ پیدا ہوتا ہو ۔ لیکن اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں جیسا کہ تمہارے جانوروں کے بچے پیدا ہوتے ہیں ۔ کیا ان میں کوئی کان کٹا پیدا ہوتا ہے ؟ وہ تو تم ہی اس کا کان کاٹ دیتے ہو ۔
حدیث نمبر: 6600
قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهْوَ صَغِيرٌ قَالَ: «اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ».
مولانا داود راز
صحابہ نے عرض کیا : پھر یا رسول اللہ ! اس بچے کے متعلق کیا خیال ہے جو بچپن ہی میں مر گیا ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ ( بڑا ہو کر ) کیا عمل کرتا ۔