کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اللہ کے علم (تقدیر) کے مطابق قلم خشک ہو گیا۔
حدیث نمبر: Q6596
{وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ} وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لاَقٍ». قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {لَهَا سَابِقُونَ} سَبَقَتْ لَهُمُ السَّعَادَةُ.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا «وأضله الله على علم‏» ” جیسا اللہ کے علم میں تھا اس کے مطابق ان کو گمراہ کر دیا ۔ “ ( یہ ترجمہ باب خود ایک حدیث میں مذکور ہے جسے امام احمد اور ابن حبان نے نکالا ہے ۔ ) اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ تمہارے ساتھ ہونے والا ہے ، اس پر قلم خشک ہو چکا ہے ( وہ لکھا جا چکا ہے ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «لها سابقون‏» کی تفسیر میں فرمایا کہ نیک بختی پہلے ہی ان کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب القدر / حدیث: Q6596
حدیث نمبر: 6596
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرِّشْكُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُعْرَفُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : فَلِمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ ، قَالَ : " كُلٌّ يَعْمَلُ لِمَا خُلِقَ لَهُ ، أَوْ لِمَا يُسِّرَ لَهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید رشک نے بیان کیا ، انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے سنا ، وہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے ، انہوں نے کہا کہ` ایک صاحب نے ( یعنی خود انہوں نے ) عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا جنت کے لوگ جہنمیوں میں سے پہچانے جا چکے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہاں “ انہوں نے کہا کہ پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کریں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جس کے لیے اسے سہولت دی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب القدر / حدیث: 6596
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة