حدیث نمبر: 1112
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ حَكِيمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ يَحْيَى بْنَ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيَّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ مَرَّ بِرَجُلٍ هَيْئَتُهُ هَيْئَةُ مُسْلِمٍ، فَسَلَّمَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ: وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَقَالَ لَهُ الْغُلاَمُ: إِنَّهُ نَصْرَانِيٌّ، فَقَامَ عُقْبَةُ فَتَبِعَهُ حَتَّى أَدْرَكَهُ فَقَالَ: إِنَّ رَحْمَةَ اللهِ وَبَرَكَاتَهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، لَكِنْ أَطَالَ اللَّهُ حَيَاتَكَ، وَأَكْثَرَ مَالَكَ وَوَلَدَكَ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جس کی شکل و صورت مسلمانوں والی تھی۔ اس نے سلام کہا تو سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: «وعلیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ»۔ ان کے غلام نے ان سے کہا: وہ شخص تو عیسائی ہے۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ اٹھ کر اس آدمی کے پیچھے گئے اور ڈھونڈ کر فرمایا: اللہ کی رحمت اور اس کی برکت تو اہلِ ایمان پر ہے، لیکن اللہ تعالیٰ تیری عمر دراز کرے اور تجھے مال اور اولاد زیادہ دے۔
حدیث نمبر: 1113
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَوْ قَالَ لِي فِرْعَوْنُ: بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ، قُلْتُ: وَفِيكَ، وَفِرْعَوْنُ قَدْ مَاتَ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اگر فرعون مجھے کہے کہ اللہ تجھے برکت دے، تو میں اسے بھی کہوں گا: اور تجھے بھی حالانکہ فرعون مر چکا ہے۔
حدیث نمبر: 1114
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ دَيْلَمٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: كَانَ الْيَهُودُ يَتَعَاطَسُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَاءَ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ: يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ، فَكَانَ يَقُولُ: ”يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چھینک مارتے، اس امید سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں «يرحمكم الله» کہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے معاملات کی اصلاح کرے۔“