حدیث نمبر: 1109
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ: أَرْسَلَ إِلَيْهِ هِرَقْلُ مَلِكُ الرُّومِ، ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي أُرْسِلَ بِهِ مَعَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى، فَدَفَعَهُ إِلَيَّ هِرَقْلُ فَقَرَأَهُ، فَإِذَا فِيهِ: ”بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، سَلاَّمٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الإِسْلاَمِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الأَرِيسِيِّينَ وَ ﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ﴾ إِلَى قَوْلِهِ: ﴿اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ﴾ [آل عمران: 64].“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ روم کے بادشاہ ہرقل نے سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خط منگوایا جو اس کی طرف بھیجا گیا تھا۔ یہ خط آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا وحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو بصری کے حاکم کو دینے کا حکم دیا، تو اس نے اسے ہرقل کو پہنچایا، اس نے اسے پڑھا، اس میں تھا: «بسم الله الرحمن الرحیم» ...... اللہ کے بندے اور رسول محمد کی طرف سے روم کے بادشاہ ہرقل کی طرف، سلام ہو اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ بلاشبہ میں تم کو اسلام کی طرف بلاتا ہوں۔ اسلام قبول کر لو، سلامت رہو گے، اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا دوہرا اجر عطا فرمائے گا، اور اگر تم نے انکار کیا تو رعایا کا گناه بھی تم پر ہوگا۔ اور اے اہلِ کتاب آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے ...... تم اس کے گواہ رہو گے کہ ہم مسلمان ہیں۔