حدیث نمبر: 1102
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنِّي رَاكِبٌ غَدًا إِلَى يَهُودَ، فَلاَ تَبْدَأُوهُمْ بِالسَّلاَمِ، فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ.“ ¤ حَدَّثَنَا ابْنُ سَلامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، مِثْلَهُ، وَزَادَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کل صبح یہودیوں کی طرف جارہا ہوں، لہٰذا انہیں سلام میں پہل نہ کرنا، اور اگر وہ تمہیں سلام کہیں تو جواب میں «وعلیکم» کہنا۔“
ایک دوسرے طریق سے سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے، مگر اس میں ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
ایک دوسرے طریق سے سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے، مگر اس میں ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
حدیث نمبر: 1103
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”أَهْلُ الْكِتَابِ لاَ تَبْدَأُوهُمْ بِالسَّلاَمِ، وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِ الطَّرِيقِ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہلِ کتاب کو سلام میں (کسی صورت بھی) پہل نہ کرو، اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔“