کتب حدیثالادب المفردابوابباب: کسی کا یہ کہنا کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی
حدیث نمبر: 907
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ‏:‏ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاَةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَثَرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ‏:‏ ”هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ‏؟‏“ قَالُوا‏:‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ‏:‏ ”أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ‏:‏ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ‏:‏ بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي، مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز پڑھائی جبکہ اس رات بارش ہو چکی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے کچھ بندے مجھ پر ایمان لائے ہیں اور کچھ نے کفر کیا ہے، جس نے کہا: ہمیں اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش نصیب ہوئی ہے، وہ مجھ پر یقین رکھنے والا اور ستاروں کی تاثیر کا منکر ہے، اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی، اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور ستاروں پر ایمان لایا۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 907
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الأذان ، باب يستقبل الامام الناس إذا سلم : 846 و مسلم : 71 و أبوداؤد : 3906 و النسائي : 1525»