حدیث نمبر: 852
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، إِنْ كَانَتْ أَحَبَّ أَسْمَاءِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَيْهِ لَأَبُو تُرَابٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ أَنْ يُدْعَى بِهَا، وَمَا سَمَّاهُ أَبَا تُرَابٍ إِلاَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَاضَبَ يَوْمًا فَاطِمَةَ، فَخَرَجَ فَاضْطَجَعَ إِلَى الْجِدَارِ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَجَاءَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْبَعُهُ، فَقَالَ: هُوَ ذَا مُضْطَجِعٌ فِي الْجِدَارِ، فَجَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ امْتَلَأَ ظَهْرُهُ تُرَابًا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ التُّرَابَ عَنْ ظَهْرِهِ وَيَقُولُ: ”اجْلِسْ أَبَا تُرَابٍ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا پسندیدہ نام ابو تراب تھا۔ انہیں اس نام سے بلانے پر خوشی ہوتی کیونکہ ان کا ابو تراب نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے رکھا تھا۔ ایک دن وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ناراض ہو کر گھر سے چلے گئے اور مسجد کی ایک دیوار کے ساتھ لیٹ گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تلاش کرتے ہوئے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ وہاں مسجد میں دیوار کے ساتھ لیٹے ہوئے ہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو دیکھا کہ ان کی پیٹھ مٹی سے بھری ہوئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی کمر سے مٹی جھاڑتے ہوئے فرما رہے تھے: ”ابو تراب (اٹھو) بیٹھ جاؤ۔“