حدیث نمبر: 850
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَنَّيْتَ نِسَاءَكَ، فَاكْنِنِي، فَقَالَ: ”تَكَنِّي بِابْنِ أُخْتِكِ عَبْدِ اللهِ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اپنی بیویوں کی کنیت رکھی ہے تو میری بھی کنیت رکھ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بھانجے عبداللہ کے نام پر کنیت رکھ لو۔“
حدیث نمبر: 851
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَلاَ تُكَنِّينِي؟ فَقَالَ: ”اكْتَنِي بِابْنِكِ“، يَعْنِي: عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَكَانَتْ تُكَنَّى: أُمَّ عَبْدِ اللهِ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے نبی! آپ میری کنیت نہیں رکھ دیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بیٹے یعنی عبداللہ بن زبیر کے نام پر کنیت رکھ لو۔“ چنانچہ انہیں ام عبداللہ کہا جاتا تھا۔