حدیث نمبر: 784
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ إِلَى السُّوقِ، فَمَرَّ عَلَى جَارِيَةٍ صَغِيرَةٍ تُغَنِّي، فَقَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ لَوْ تَرَكَ أَحَدًا لَتَرَكَ هَذِهِ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بازار گیا تو ان کا گزر ایک چھوٹی لڑکی کے پاس سے ہوا جو گا رہی تھی، آپ نے فرمایا: شیطان اگر کسی کو (گمراہ کرنے) چھوڑتا تو اس لڑکی کو چھوڑ دیتا۔
حدیث نمبر: 785
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرًا مَوْلَى الْمُطَّلِبِ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”لَسْتُ مِنْ دَدٍ، وَلاَ الدَّدُ مِنِّي بِشَيْءٍ“، يَعْنِي: لَيْسَ الْبَاطِلُ مِنِّي بِشَيْءٍ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں لہو و لعب والا ہوں، اور نہ لہو و لعب کا مجھ سے کوئی تعلق ہے۔“ یعنی: باطل کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں۔
حدیث نمبر: 786
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ﴾ [لقمان: 6]، قَالَ: الْغِنَاءُ وَأَشْبَاهُهُ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت مبارکہ «وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ» [لقمان: 6] کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: اس سے مراد گانا بجانا اور اس سے ملتی جلتی چیزیں ہیں۔
حدیث نمبر: 787
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالاَ: أَخْبَرَنَا قِنَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ النَّهْمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”أَفْشُوا السَّلاَمَ تَسْلَمُوا، وَالأشَرَةُ شَرٌّ“، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: وَالأَشَرُ: الْعَبَثُ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلام کو عام کرو، سلامتی سے رہو گے، اور فضول بات شر ہے۔“ ابو معاویہ رحمہ اللہ نے کہا: اشر کے معنی عبث کے ہیں۔
حدیث نمبر: 788
حَدَّثَنَا عِصَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ سُمَيْرٍ الأَلَهَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَكَانَ بِجَمْعٍ مِنَ الْمَجَامِعِ، فَبَلَغَهُ أَنَّ أَقْوَامًا يَلْعَبُونَ بِالْكُوبَةِ، فَقَامَ غَضْبَانَ يَنْهَى عَنْهَا أَشَدَّ النَّهْيِ، ثُمَّ قَالَ: أَلاَ إِنَّ اللاَّعِبَ بِهَا لَيَأْكُلُ ثَمَرَهَا، كَآكِلِ لَحْمِ الْخِنْزِيرِ، وَمُتَوَضِّئٍ بِالدَّمِ. يَعْنِي بِالْكُوبَةِ: النَّرْدَ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کسی مجمع میں تھے کہ انہیں یہ خبر پہنچی کہ کچھ لوگ شطرنج کھیلتے ہیں۔ وہ وہاں سے بڑی سختی سے منع کرتے ہوئے غضبناک ہو کر اٹھے، پھر فرمایا: خبردار! شطرنج کھیلنے والا تاکہ اس کی کمائی کھائے، خنزیر کا گوشت کھانے والے کی طرح ہے، اور اس کے خون کے ساتھ وضو کرنے والے کی طرح ہے۔