کتب حدیثالادب المفردابوابباب: مکان بنانے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 776
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هِلاَلٍ، أَنَّهُ رَأَى حُجَرَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَرِيدٍ مَسْتُورَةً بِمُسُوحِ الشَّعْرِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ بَيْتِ عَائِشَةَ، فَقَالَ‏:‏ كَانَ بَابُهُ مِنْ وِجْهَةِ الشَّامِ، فَقُلْتُ‏:‏ مِصْرَاعًا كَانَ أَوْ مِصْرَاعَيْنِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ كَانَ بَابًا وَاحِدًا، قُلْتُ‏:‏ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ كَانَ‏؟‏ قَالَ‏:‏ مِنْ عَرْعَرٍ أَوْ سَاجٍ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
محمد بن ہلال رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے حجروں کو دیکھا جو کھجور کی شاخوں سے بنے ہوئے تھے، اور انہیں بالوں سے بنائے ٹاٹوں سے ڈھانکا گیا تھا۔ میں نے ان سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس کا دروازہ شام کی طرف تھا۔ میں نے کہا: اس کا ایک کواڑ تھا یا دو کواڑ؟ انہوں نے کہا: ایک ہی دروازہ تھا۔ میں نے پوچھا: دروازہ کس چیز کا تھا؟ انہوں نے کہا: سرو کے درخت کا یا ساگوان کی لکڑی کا تھا۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الأقوال / حدیث: 776
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث صحيح : »
حدیث نمبر: 777
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَبْنِيَ النَّاسُ بُيُوتًا يُوشُونَهَا وَشْيَ الْمَرَاحِيلِ“، قَالَ إِبْرَاهِيمُ‏:‏ يَعْنِي الثِّيَابَ الْمُخَطَّطَةَ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک لوگ اپنے گھروں کو مراحیل کی طرح نہ بنالیں۔“ ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے دھاری دار چادروں کی طرح۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الأقوال / حدیث: 777
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : تقدم برقم : 459»