کتب حدیثالادب المفردابوابباب: جب کسی کی پارسائی بیان کی جائے تو وہ کیا کہے
حدیث نمبر: 761
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ أَرْطَأَةَ قَالَ‏:‏ كَانَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زُكِّيَ قَالَ‏:‏ اللَّهُمَّ لاَ تُؤَاخِذْنِي بِمَا يَقُولُونَ، وَاغْفِرْ لِي مَا لا يَعْلَمُونَ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عدی بن ارطاة رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں ایک شخص ایسے تھے کہ جب ان کے سامنے ان کی پارسائی بیان کی جاتی تو وہ کہتے: ”اے اللہ! جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں اس کا مجھ سے مؤاخذہ نہ کرنا، اور میرے بارے میں جو یہ لوگ نہیں جانتے ان (گناہوں) کی مغفرت فرما۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الأقوال / حدیث: 761
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه أحمد فى الزهد : 1142 و البخاري فى التاريخ الكبير : 58/2 و ابن أبى شيبة : 35703»
حدیث نمبر: 762
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ اللهِ قَالَ لأَبِي مَسْعُودٍ، أَوْ أَبُو مَسْعُودٍ قَالَ لأَبِي عَبْدِ اللهِ‏:‏ مَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ‏(‏زَعَمَ )‏‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابو قلابہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو عبداللہ نے سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہما سے کہا یا سیدنا ابو مسعود نے سیدنا ابو عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زعم (اس کا گمان ہے) کے بارے کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آدمی کی بری سواری ہے۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الأقوال / حدیث: 762
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه أبوداؤد ، كتاب الأدب ، باب فى (قول الرجل) زعموا : 4972 - انظر الصحيحة : 866»
حدیث نمبر: 763
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَامِرٍ قَالَ‏:‏ يَا أَبَا مَسْعُودٍ، مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي ”زَعَمُوا‏؟“‏ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُهُ يَقُولُ‏:‏ ”بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ“، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ‏:‏ ”لَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے ابو مسعود! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کلمہ ”زعموا“ (ان کا خیال ہے) کے بارے میں کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یہ کلمہ آدمی کی بدترین سواری ہے۔“ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کے مترادف ہے۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الأقوال / حدیث: 763
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره : الإرواء : 201/8 ، 575 - ن»