حدیث نمبر: Q6392
وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ : اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ سورة آل عمران آية 128 .
مولانا داود راز
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اے اللہ ! میری مدد کر ایسے قحط کے ذریعہ جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا “ اور آپ نے بددعا کی ” اے اللہ ! ابوجہل کو پکڑ لے “ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں یہ دعا کی کہ ” اے للہ ! فلاں ، فلاں کو اپنی رحمت سے دور کر دے “ یہاں تک کہ قرآن کی آیت «ليس لك من الأمر شىء» نازل ہوئی ۔
حدیث نمبر: 6392
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمْ الْأَحْزَابَ ، اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو وکیع نے خبر دی ، انہیں ابن ابی خالد نے ، کہا میں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے سنا ، کہا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے لیے بددعا کی «اللهم منزل الكتاب ، سريع الحساب ، اهزم الأحزاب ، اهزمهم وزلزلهم» ” اے اللہ ! کتاب کے نازل کرنے والے ! حساب جلدی لینے والے ! احزاب کو ( مشرکین کی جماعتوں کو ، غزوہ احزاب میں ) شکست دے ، انہیں شکست دیدے اور انہیں جھنجوڑ دے ۔“
حدیث نمبر: 6393
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ قَنَتَ اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے ، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا ، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عشاء کی آخر رکعت میں ( رکوع سے اٹھتے ہوئے ) «سمع الله لمن حمده» کہتے تھے تو دعائے قنوت پڑھتے تھے «اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة ، اللهم أنج الوليد بن الوليد ، اللهم أنج سلمة بن هشام ، اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين ، اللهم اشدد وطأتك على مضر ، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف» ” اے اللہ ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے ، اے اللہ ! ولید بن ولید کو نجات دے ، اے اللہ ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے ، اے اللہ ! کمزور ناتواں مومنوں کو نجات دے ، اے اللہ ! اے اللہ ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ کو سخت کر دے ، اے اللہ ! وہاں ایسا قحط پیدا کر دے جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا تھا ۔ “
حدیث نمبر: 6394
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً يُقَالُ لَهُمْ : الْقُرَّاءُ ، فَأُصِيبُوا فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى شَيْءٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ ، فَقَنَتَ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ، وَيَقُولُ : " إِنَّ عُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
مولانا داود راز
´ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا ، ان سے عاصم نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم بھیجی ، جس میں شریک لوگوں کو قراء ( یعنی قرآن مجید کے قاری ) کہا جاتا تھا ۔ ان سب کو شہید کر دیا گیا ۔ میں نے نہیں دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی چیز کا اتنا غم ہوا ہو جتنا آپ کو ان کی شہادت کا غم ہوا تھا ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں ان کے لیے بددعا کی ، آپ کہتے کہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔
حدیث نمبر: 6395
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ الْيَهُودُ يُسَلِّمُونَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُونَ : السَّامُ عَلَيْكَ ، فَفَطِنَتْ عَائِشَةُ إِلَى قَوْلِهِمْ ، فَقَالَتْ : عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْلًا يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ " ، فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا يَقُولُونَ ؟ ، قَالَ : " أَوَلَمْ تَسْمَعِي أَنِّي أَرُدُّ ذَلِكِ عَلَيْهِمْ فَأَقُولُ وَعَلَيْكُمْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا ، انہیں معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تو کہتے «السام عليك.» آپ کو موت آئے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کا مقصد سمجھ گئیں اور جواب دیا کہ «عليكم السام واللعنة.» تمہیں موت آئے اور تم پر لعنت ہو ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہرو عائشہ ! اللہ تمام امور میں نرمی کو پسند کرتا ہے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! کیا آپ نے نہیں سنا یہ لوگ کیا کہتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے نہیں سنا کہ میں انہیں کس طرح جواب دیتا ہوں ۔ میں کہتا ہوں «وعليكم» ۔
حدیث نمبر: 6396
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ ، فَقَالَ : " مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى ، حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ " ، وَهِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن مثنی ٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے انصاری نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن حسان نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن سیرین نے بیان کیا ، ان سے عبیدہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` غزوہ خندق کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ ان کی قبروں اور ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے ۔ انہوں نے ہمیں «صلاة الوسطى» ( عصر کی نماز ) نہیں پڑھنے دی جب تک کہ سورج غروب ہو گیا اور یہ عصر کی نماز تھی ۔