مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: ناکارہ عمر، دنیا کی آزمائش اور دوزخ کی آزمائش سے اللہ کی پناہ مانگنا۔
حدیث نمبر: 6374
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : تَعَوَّذُوا بِكَلِمَاتٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم کو حسین بن علی جعفی نے خبر دی ، انہیں زائدہ بن قدامہ نے ، انہیں عبدالملک بن عمیر نے ، انہیں مصعب بن سعد نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` ان کلمات کے ذریعہ اللہ کی پناہ مانگو جن کے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الجبن ،‏‏‏‏ وأعوذ بك من البخل ،‏‏‏‏ وأعوذ بك من أن أرد إلى أرذل العمر ،‏‏‏‏ وأعوذ بك من فتنة الدنيا ،‏‏‏‏ وعذاب القبر» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بزدلی سے ، تیری پناہ مانگتا ہوں بخل سے ، اس سے کہ ناکارہ عمر کو پہنچوں ، تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب سے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الدعوات / حدیث: 6374
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 6375
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ ، وَالْهَرَمِ ، وَالْمَغْرَمِ ، وَالْمَأْثَمِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ ، وَفِتْنَةِ النَّارِ ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے کہا «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمغرم والمأثم ،‏‏‏‏ اللهم إني أعوذ بك من عذاب النار وفتنة النار وعذاب القبر ،‏‏‏‏ وشر فتنة الغنى ،‏‏‏‏ وشر فتنة الفقر ،‏‏‏‏ ومن شر فتنة المسيح الدجال ،‏‏‏‏ اللهم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد ،‏‏‏‏ ونق قلبي من الخطايا ،‏‏‏‏ كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس ،‏‏‏‏ وباعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے ، ناکارہ عمر سے ، بڑھاپے سے ، قرض سے اور گناہ سے ۔ اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دوزخ کے عذاب سے ، دوزخ کی آزمائش سے ، قبر کے عذاب سے ، مالداری کی بری آزمائش سے ، محتاجی کی بری آزمائش سے اور مسیح دجال کی بری آزمائش سے ۔ اے اللہ ! میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے اور میرے دل کو خطاؤں سے پاک کر دے ، جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کر دیا جاتا ہے اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جتنا فاصلہ مشرق و مغرب میں ہے ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الدعوات / حدیث: 6375
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔