حدیث نمبر: 6372
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ ، كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ ، أَوْ أَشَدَّ وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا وَصَاعِنَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اللهم حبب إلينا المدينة ، كما حببت إلينا مكة أو أشد ، وانقل حماها إلى الجحفة ، اللهم بارك لنا في مدنا وصاعنا» ” اے اللہ ! ہمارے دل میں مدینہ کی ایسی ہی محبت پیدا کر دے جیسی تو نے مکہ کی محبت ہمارے دل میں پیدا کی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور اس کے بخار کو جحفہ میں منتقل کر دے ، اے اللہ ! ہمارے لیے ہمارے مد اور صاع میں برکت عطا فرما ۔ “
حدیث نمبر: 6373
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ : عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ شَكْوَى أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَلَغَ بِي مَا تَرَى مِنَ الْوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلَا يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي وَاحِدَةٌ ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي ، قَالَ : " لَا " ، قُلْتُ : فَبِشَطْرِهِ ، قَالَ : " الثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ ، إِلَّا أُجِرْتَ حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ " ، قُلْتُ : أَأُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي ، قَالَ : " إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ ، فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ ، إِلَّا ازْدَدْتَ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ ، وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ " ، لَكِنْ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ ، قَالَ : سَعْدٌ رَثَى لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَنْ تُوُفِّيَ بِمَكَّةَ .
مولانا داود راز
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے ، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی ، انہیں عامر بن سعد نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر میری عیادت کے لیے تشریف لائے ۔ میری اس بیماری نے مجھے موت سے قریب کر دیا تھا ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ خود مشاہدہ فرما رہے ہیں کہ بیماری نے مجھے کہاں پہنچا دیا ہے اور میرے پاس مال و دولت ہے اور سوا ایک لڑکی کے اس کا اور کوئی وارث نہیں ، کیا میں اپنی دولت کا دو تہائی صدقہ کر دوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ۔ میں نے عرض کیا پھر آدھی کا کر دوں ؟ فرمایا کہ ایک تہائی بہت ہے اگر تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور یقین رکھو کہ تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے اور اس سے مقصود اللہ کی خوشنودی ہوئی تمہیں تو اس پر ثواب ملے گا ، یہاں تک کہ اگر تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ رکھو ( تو اس پر بھی ثواب ملے گا ) میں نے عرض کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے چھوڑ دیا جاؤں گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم پیچھے چھوڑ دئیے جاؤ اور پھر کوئی عمل کرو جس سے مقصود اللہ کی رضا ہو تو تمہارا مرتبہ بلند ہو گا اور امید ہے کہ تم ابھی زندہ رہو گے اور کچھ قومیں تم سے فائدہ اٹھائیں گی اور کچھ نقصان اٹھائیں گی ۔ اے اللہ ! میرے صحابہ کی ہجرت کو کامیاب فرما اور انہیں الٹے پاؤں واپس نہ کر ، البتہ افسوس سعد بن خولہ کا ہے ۔ سعد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر افسوس کا اظہار اس وجہ سے کیا تھا کہ ان کا انتقال مکہ معظمہ میں ہو گیا تھا ۔