کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: آدمی جس کام میں مصروف ہو کر اللہ کی عبادت سے غافل ہو جائے وہ «لهو» میں داخل اور باطل ہے۔
حدیث نمبر: Q6301
وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ وَقَوْلُهُ تَعَالَى : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ سورة لقمان آية 6 "
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آؤ جوا کھیلیں اس کا کیا حکم ہے اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ لقمان میں فرمایا «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله‏» ” بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کی راہ سے بہکا دینے کے لیے کھیل کود کی باتیں بول لیتے ہیں ۔ “
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاستئذان / حدیث: Q6301
حدیث نمبر: 6301
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ مِنْكُمْ ، فَقَالَ فِي حَلِفِهِ : بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى ، فَلْيَقُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ : تَعَالَ أُقَامِرْكَ ، فَلْيَتَصَدَّقْ " .
مولانا داود راز
´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے جس نے قسم کھائی اور کہا کہ لات و عزیٰ کی قسم ، تو پھر وہ «لا إله إلا الله» کہے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے صدقہ کر دینا چاہئے ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاستئذان / حدیث: 6301
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة