حدیث نمبر: Q6292
وَقَوْلُهُ : وَإِذْ هُمْ نَجْوَى مَصْدَرٌ مِنْ نَاجَيْتُ ، فَوَصَفَهُمْ بِهَا وَالْمَعْنَى : يَتَنَاجَوْنَ "
مولانا داود راز
( سورۃ بنی اسرائیل میں فرمایا ) «وإذ هم نجوى» تو «نجوى» ، «ناجيت» کا مصدر ہے یعنی وہ لوگ سرگوشی کر رہے ہیں یہاں یہ ان لوگوں کی صفت واقع ہو رہا ہے ۔
حدیث نمبر: 6292
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَرَجُلٌ يُنَاجِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا زَالَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ أَصْحَابُهُ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالعزیز بن صہیب اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نماز کی تکبیر کہی گئی اور ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرتے رہے ، پھر وہ دیر تک سرگوشی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کے صحابہ سونے لگے اس کے بعد آپ اٹھے اور نماز پڑھائی ۔