کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: کسی جگہ صرف تین آدمی ہوں تو ایک کو اکیلا چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کریں۔
حدیث نمبر: Q6288-2
وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلاَ تَتَنَاجَوْا بِالإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَةِ الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَى}. إِلَى قَوْلِهِ: {وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ}
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور اللہ پاک نے ( سورۃ قد سمع اللہ میں ) فرمایا «يا أيها الذين آمنوا إذا تناجيتم فلا تتناجوا بالإثم والعدوان ومعصية الرسول وتناجوا بالبر والتقوى‏» ” مسلمانو ! جب تم سرگوشی کرو تو گناہ اور ظلم اور پیغمبر کی نافرمانی پر سرگوشی نہ کیا کرو بلکہ نیکی اور پرہیزگاری پر “ آخر آیت «والله خبير بما تعملون‏» تک ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاستئذان / حدیث: Q6288-2
حدیث نمبر: Q6288
وَقَوْلُهُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ذَلِكَ خَيْرٌ لَكُمْ وَأَطْهَرُ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} إِلَى قَوْلِهِ: {وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ}.
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور اللہ نے ( اس سورت میں ) مزید فرمایا «يا أيها الذين آمنوا إذا ناجيتم الرسول فقدموا بين يدي نجواكم صدقة ذلك خير لكم وأطهر فإن لم تجدوا فإن الله غفور رحيم» ” مسلمانو ! جب تم پیغمبر سے سرگوشی کرو تو اس سے پہلے کچھ صدقہ نکالا کرو یہ تمہارے حق میں بہتر اور پاکیزہ ہے اگر تم کو خیرات کرنے کے لیے کچھ نہ ملے تو خیر اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ “ آخر آیت «والله خبير بما تعملون» تک ۔ ( سورۃ المجادلہ : 12 ، 13 )
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاستئذان / حدیث: Q6288
حدیث نمبر: 6288
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةٌ ، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تین آدمی ساتھ ہوں تو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر دو آپس میں کانا پھوسی ( سرگوشی ) نہ کریں ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاستئذان / حدیث: 6288
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة