کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اونٹنی، اونٹ، درخت اور پالان کو سامنے کر کے نماز پڑھنا۔
حدیث نمبر: 507
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ كَانَ يُعَرِّضُ رَاحِلَتَهُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا ، قُلْتُ : أَفَرَأَيْتَ إِذَا هَبَّتِ الرِّكَابُ ، قَالَ : كَانَ يَأْخُذُ هَذَا الرَّحْلَ فَيُعَدِّلُهُ فَيُصَلِّي إِلَى آخِرَتِهِ أَوْ قَالَ مُؤَخَّرِهِ " ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَفْعَلُهُ .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی بصریٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا عبیداللہ بن عمر سے ، وہ نافع سے ، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو سامنے عرض میں کر لیتے اور اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے ، عبیداللہ بن عمر نے نافع سے پوچھا کہ جب سواری اچھلنے کودنے لگتی تو اس وقت آپ کیا کیا کرتے تھے ؟ نافع نے کہا کہ آپ اس وقت کجاوے کو اپنے سامنے کر لیتے اور اس کے آخری حصے کی ( جس پر سوار ٹیک لگاتا ہے ایک کھڑی سی لکڑی کی ) طرف منہ کر کے نماز پڑھتے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الصلاة / حدیث: 507
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة