کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: عنزہ (لکڑی جس کے نیچے لوہے کا پھل لگا ہوا ہو) کی طرف نماز پڑھنا۔
حدیث نمبر: 499
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : " خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ ، فَأُتِيَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ يَمُرُّونَ مِنْ وَرَائِهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عون بن ابی حجیفہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے اپنے باپ ابوحجیفہ وہب بن عبداللہ سے سنا انہوں نے کہا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت باہر تشریف لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وضو کا پانی پیش کیا گیا ، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ۔ پھر ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اور عصر کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عنزہ گاڑ دیا گیا تھا اور عورتیں اور گدھے پر سوار لوگ اس کے پیچھے سے گزر رہے تھے ۔
حدیث نمبر: 500
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَاذَانُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ تَبِعْتُهُ أَنَا وَغُلَامٌ وَمَعَنَا عُكَّازَةٌ أَوْ عَصًا أَوْ عَنَزَةٌ وَمَعَنَا إِدَاوَةٌ ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ نَاوَلْنَاهُ الْإِدَاوَةَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن حاتم بن بزیع نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شاذان بن عامر نے شعبہ بن حجاج کے واسطہ سے بیان کیا ، انہوں نے عطاء بن ابی میمونہ سے ، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رفع حاجت کے لیے نکلتے تو میں اور ایک اور لڑکا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے جاتے ۔ ہمارے ساتھ عکازہ ( ڈنڈا جس کے نیچے لوہے کا پھل لگا ہوا ہو ) یا چھڑی یا عنزہ ہوتا ۔ اور ہمارے ساتھ ایک چھاگل بھی ہوتا تھا ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حاجت سے فارغ ہو جاتے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ چھاگل دے دیتے تھے ۔