حدیث نمبر: Q394
لَيْسَ فِي الْمَشْرِقِ وَلاَ فِي الْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ ، لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لاَ تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا».
مولانا داود راز
اور ( مدینہ اور شام والوں کا ) قبلہ مشرق و مغرب کی طرف نہیں ہے ۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( خاص اہل مدینہ سے متعلق اور اہل شام بھی اسی میں داخل ہیں ) کہ پاخانہ پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ نہ کرو ، البتہ مشرق کی طرف اپنا منہ کر لو ، یا مغرب کی طرف ۔
حدیث نمبر: 394
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا ، وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا " ، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ : فَقَدِمْنَا الشَّأْمَ ، فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ بُنِيَتْ قِبَلَ الْقِبْلَةِ ، فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ تَعَالَى ، وَعَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
مولانا داود راز
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے ، کہا ہم سے زہری نے عطاء بن یزید لیثی کے واسطہ سے ، انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو اس وقت نہ قبلہ کی طرف منہ کرو اور نہ پیٹھ کرو ۔ بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف اس وقت اپنا منہ کر لیا کرو ۔ ابوایوب نے فرمایا کہ ہم جب شام میں آئے تو یہاں کے بیت الخلاء قبلہ رخ بنے ہوئے تھے ( جب ہم قضائے حاجت کے لیے جاتے ) تو ہم مڑ جاتے اور اللہ عزوجل سے استغفار کرتے تھے اور زہری نے عطاء سے اس حدیث کو اسی طرح روایت کیا ۔ اس میں یوں ہے کہ عطاء نے کہا میں نے ابوایوب سے سنا ، انہوں نے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔