مرکزی مواد پر جائیں
15 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثالادب المفردابوابباب: جو اپنے غلام پر لعنت کرے تو اس کو آزاد کر دے
حدیث نمبر: 319
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ لَعَنَ بَعْضَ رَقِيقِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”يَا أَبَا بَكْرٍ، اللَّعَّانِينَ وَالصِّدِّيقِينَ‏؟‏ كَلاَّ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ“، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، فَأَعْتَقَ أَبُو بَكْرٍ يَوْمَئِذٍ بَعْضَ رَقِيقِهِ، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ‏:‏ لا أَعُودُ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے کسی غلام پر لعنت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو بکر! کیا صدیق بھی لعنت کرتا ہے؟ ہرگز نہیں رب کعبہ کی قسم۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دو یا تین بار دہرائی۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس دن اپنے کئی غلام آزاد کر دیے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: دوبارہ میں کبھی لعنت نہیں کروں گا۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 319
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «صحيح : الترغيب : 286/3 - أخرجه البيهقي فى شعب الإيمان : 5154»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔