مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: بچہ کی کنیت رکھنا اس سے پہلے کہ وہ صاحب اولاد ہو۔
حدیث نمبر: 6203
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا ، وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ : أَبُو عُمَيْرٍ قَالَ : أَحْسِبُهُ فَطِيمًا ، وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَالَ : يَا أَبَا عُمَيْرٍ ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ ، فَرُبَّمَا حَضَرَ الصَّلَاةَ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا ، فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ وَيُنْضَحُ ، ثُمَّ يَقُومُ وَنَقُومُ خَلْفَهُ ، فَيُصَلِّي بِنَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اخلاق میں سب لوگوں سے بڑھ کر تھے ، میرا ایک بھائی ابوعمیر نامی تھا ۔ بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ بچہ کا دودھ چھوٹ چکا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لاتے تو اس سے مزاحاً فرماتے «يا أبا عمير ما فعل النغير» اکثر ایسا ہوتا کہ نماز کا وقت ہو جاتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں ہوتے ۔ آپ اس بستر کو بچھانے کا حکم دیتے جس پر آپ بیٹھے ہوئے ہوتے ، چنانچہ اسے جھاڑ کر اس پر پانی چھڑک دیا جاتا ۔ پھر آپ کھڑے ہوتے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأدب / حدیث: 6203
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔