مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: غصہ میں جن پر عتاب ہے ان کو مخاطب نہ کرنا۔
حدیث نمبر: 6101
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَرَخَّصَ فِيهِ ، فَتَنَزَّهَ عَنْهُ قَوْمٌ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ فَحَمِدَ اللَّهَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَنَزَّهُونَ عَنِ الشَّيْءِ أَصْنَعُهُ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً " .
مولانا داود راز
´ہم سے عمرو بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا ہم سے مسلم نے بیان کیا ، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کیا اور لوگوں کو بھی اس کی اجازت دے دی لیکن کچھ لوگوں نے اس کا نہ کرنا اچھا جانا ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے خطبہ دیا اور اللہ کی حمد کے بعد فرمایا کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو اس کام سے پرہیز کرتے ہیں ، جو میں کرتا ہوں ، اللہ کی قسم میں اللہ کو ان سب سے زیادہ جانتا ہوں اور ان سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأدب / حدیث: 6101
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 6102
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ هُوَ ابْنُ أَبِي عُتْبَةَ مَوْلَى أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا ، فَإِذَا رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں قتادہ نے ، کہا میں نے عبداللہ بن عتبہ سے سنا ، جو انس رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں کہ` ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ شرمیلے تھے ، جب آپ کوئی ایسی چیز دیکھتے جو آپ کو ناگوار ہوتی تو ہم آپ کے چہرے مبارک سے سمجھ جاتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأدب / حدیث: 6102
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔