کتب حدیثالادب المفردابوابباب: اس شخص کی فضیلت جو ایسے یتیم کی پرورش کرتا ہے جس کے ماں باپ فوت ہو گئے ہیں
حدیث نمبر: 133
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ صَفْوَانَ قَالَ‏:‏ حَدَّثَتْنِي أُنَيْسَةُ، عَنْ أُمِّ سَعِيدٍ بِنْتِ مُرَّةَ الْفِهْرِيِّ، عَنْ أَبِيهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ، أَوْ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ‏.“‏ شَكَّ سُفْيَانُ فِي الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا مرہ بن عمرو فہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے (جیسے شہادت والی اور ساتھ والی انگلی ہے) یا جیسے یہ اور یہ انگلی (ساتھ ساتھ ہیں)۔“ سفیان نے درمیان والی انگلی اور انگوٹھے کے ساتھ والی میں شک کیا ہے (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کون سی انگلی سے اشارہ فرمایا)۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الكرم و يتيم / حدیث: 133
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه الحميدي : 838 و المروزي فى البر و الصلة : 206 و الطبراني فى الكبير : 320/20 و الحارث فى مسنده كما فى البغية : 904 و البيهقي فى الآداب : 23 و ابن عبدالبر فى التمهيد : 245/16 - الصحيحة : 800»
حدیث نمبر: 134
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ يَتِيمًا كَانَ يَحْضُرُ طَعَامَ ابْنِ عُمَرَ، فَدَعَا بِطَعَامٍ ذَاتَ يَوْمٍ، فَطَلَبَ يَتِيمَهُ فَلَمْ يَجِدْهُ، فَجَاءَ بَعْدَ مَا فَرَغَ ابْنُ عُمَرَ، فَدَعَا لَهُ ابْنُ عُمَرَ بِطَعَامٍ، لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُمْ، فَجَاءَه بِسَوِيقٍ وَعَسَلٍ، فَقَالَ‏:‏ دُونَكَ هَذَا، فَوَاللَّهِ مَا غُبِنْتَ يَقُولُ الْحَسَنُ‏:‏ وَابْنُ عُمَرَ وَاللَّهِ مَا غُبِنَ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک یتیم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کھانا کھاتا تھا۔ ایک روز انہوں نے کھانا منگوایا، پھر یتیم کو بلایا تو اسے موجود نہ پایا۔ جب کھانے سے فارغ ہوئے تو وہ آ گیا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے لیے دوبارہ کھانا طلب کیا تو کھانا ان کے پاس نہیں تھا تو خادم ستو اور شہد لے آیا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہی کھاؤ، اللہ کی قسم! تم گھاٹے میں نہیں رہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: اللہ کی قسم! سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی گھاٹے میں نہیں رہے۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الكرم و يتيم / حدیث: 134
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : أخرجه أحمد فى الزهد : 1051 و المروزي فى البر و الصلة : 213 و ابن أبى الدنيا فى الجوع : 54 و أبونعيم فى الحلية : 299/1»
حدیث نمبر: 135
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا“، وَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ساتھ ہوں گے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سبابہ اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الكرم و يتيم / حدیث: 135
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، الأدب ، باب فضل من يعول يتيما : 6005 و أبوداؤد : 5150 و الترمذي : 1918 - الصحيحة : 800»
حدیث نمبر: 136
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ وَرْدَانَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ كَانَ لاَ يَأْكُلُ طَعَامًا إِلاَّ وَعَلَى خِوَانِهِ يَتِيمٌ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابو بکر بن حفص رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب بھی کھانا کھاتے ان کے دسترخوان پر ضرور کوئی یتیم ہوتا۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الكرم و يتيم / حدیث: 136
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : رواه أحمد فى الزهد : 1049 و الخرائطي فى مكارم الاخلاق : 652 و أبونعيم فى الحلية : 299/1»