کتب حدیثالادب المفردابوابباب: باپ کے ادب سکھانے اور اولاد کے ساتھ حسن سلوک کا بیان
حدیث نمبر: 92
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ نُمَيْرِ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ‏:‏ كَانُوا يَقُولُونَ‏:‏ الصَّلاَحُ مِنَ اللهِ، وَالأَدَبُ مِنَ الآبَاءِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
نمیر بن اوس سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ لوگ (ہمارے اکابر) کہا کرتے تھے: نیکی اور اصلاح کی توفیق اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، اور ادب سکھانا والدین کی ذمہ داری ہے۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 92
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : رواه ابن أبى الدنيا فى العيال : 357 و ابن عساكر فى تاريخه : 231/62 و المزي فى تهذيب الكمال : 102/31»
حدیث نمبر: 93
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْقُرَشِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَامِرٍ، أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ انْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُهُ فَقَالَ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ‏:‏ ”أَكُلَّ وَلَدَكَ نَحَلْتَ‏؟“‏ قَالَ‏:‏ لاَ، قَالَ‏:‏ ”فَأَشْهِدْ غَيْرِي“، ثُمَّ قَالَ‏:‏ ”أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا فِي الْبِرِّ سَوَاءً‏؟“‏ قَالَ‏:‏ بَلَى، قَالَ‏:‏ ”فَلاَ إِذًا۔‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد مجھے اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے نعمان کو فلاں فلاں چیز دی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اپنے سارے بچوں کو دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔“ نیز فرمایا: ”کیا تجھے یہ پسند نہیں کہ تیرے سارے بچے تیرے ساتھ برابر حسنِ سلوک کریں؟“ انہوں نے کہا: جی بالکل۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ایسے نہ کرو“ (کہ کچھ کو دو اور باقیوں کو محروم رکھو۔)
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 93
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، الهبة و فضلها و التحريض عليها ، باب الهبة للولد : 2586 و مسلم : 1623 و أبوداؤد : 3542 و الترمذي : 1367 و ابن ماجه : 2376 و النسائي : 3674»