حدیث نمبر: 90
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَتُقَبِّلُونَ صِبْيَانَكُمْ؟ فَمَا نُقَبِّلُهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”أَوَ أَمْلِكُ لَكَ أَنْ نَزَعَ اللَّهُ مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ؟۔“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ ایک بدوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: کیا تم اپنے بچوں کو بوسہ دیتے ہو؟ ہم تو انہیں بوسہ نہیں دیتے۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس کا کیا علاج کروں کہ اللہ نے تیرے دل سے رحمت کا مادہ نکال دیا۔“
حدیث نمبر: 91
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَبَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَعِنْدَهُ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ جَالِسٌ، فَقَالَ الأَقْرَعُ: إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ أَحَدًا، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: ”مَنْ لا يَرْحَمُ لا يُرْحَمُ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (سے روایت ہے وہ) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو بوسہ دیا تو وہاں اقرع بن حابس تمیمی بھی تھے، انہوں نے کہا: میرے دس بیٹے ہیں، میں نے کبھی کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا، پھر فرمایا: ”جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔“