حدیث نمبر: 76
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ أَبُو حَفْصٍ التُّجِيبِيُّ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”مَنْ كَانَ لَهُ ثَلاَثُ بَنَاتٍ، وَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ، وَكَسَاهُنَّ مِنْ جِدَتِهِ، كُنَّ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان پر صبر کرے، اور ان کو اپنے مال سے کپڑے پہنائے، تو وہ اس کے لیے آگ سے رکاوٹ ہوں گی۔“
حدیث نمبر: 77
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنْ شُرَحْبِيلَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُدْرِكُهُ ابْنَتَانِ، فَيُحْسِنُ صُحْبَتَهُمَا، إِلاَّ أَدْخَلَتَاهُ الْجَنَّةَ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان کو دو بیٹیاں مل گئیں اور اس نے انہیں حسنِ سلوک کے ساتھ رکھا تو وہ دونوں اسے جنت میں داخل کرا دیں گی۔“
حدیث نمبر: 78
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ حَدَّثَهُمْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَنْ كَانَ لَهُ ثَلاَثُ بَنَاتٍ، يُؤْوِيهِنَّ، وَيَكْفِيهِنَّ، وَيَرْحَمُهُنَّ، فَقَدْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ“، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَعْضِ الْقَوْمِ: وَثِنْتَيْنِ، يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: ”وَثِنْتَيْنِ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی تین بیٹیاں ہوں جنہیں وہ ٹھکانا دیتا ہو، ان کی کفالت کرتا ہو، اور ان پر شفقت کرتا ہو تو اس کے لیے ضرور جنت واجب ہو گئی۔“ حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کسی کی دو بیٹیاں ہوں تو (ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا بھی یہی ثواب ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کے ساتھ حسنِ سلوک کا بھی یہی ثواب ہے۔“