کتب حدیثالادب المفردابوابباب: کیا کسی قوم کا آزاد کردہ غلام یہ کہہ سکتا ہے کہ میں ان میں سے ہوں؟
حدیث نمبر: 74
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ اللَّيْثِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ قَالَ‏:‏ قَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ‏:‏ مِمَّنْ أَنْتَ‏؟‏ قُلْتُ‏:‏ مِنْ تَيْمِ تَمِيمٍ، قَالَ‏:‏ مِنْ أَنْفُسِهِمْ أَوْ مِنْ مَوَالِيهِمْ‏؟‏ قُلْتُ‏:‏ مِنْ مَوَالِيهِمْ، قَالَ‏:‏ فَهَلاَّ قُلْتَ‏:‏ مِنْ مَوَالِيهِمْ إِذًا‏؟‏‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عبدالرحمن بن حبیب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے دریافت کیا: تمہارا تعلق کس خاندان سے ہے؟ میں نے کہا: بنو تمیم کے خاندان تیم سے۔ انہوں نے فرمایا: خود ان سے یا ان کے آزاد کردہ سے؟ میں نے کہا: ان کے آزاد کردہ سے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو نے یہ کیوں نہیں کہا کہ میں ان (بنو تمیم) کا آزاد کردہ ہوں۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب موالي / حدیث: 74
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : »