کتب حدیثالادب المفردابوابباب: ”نسب کو جانو جس کے ساتھ تم رشتہ داریوں کو ملاؤ“ کا بیان
حدیث نمبر: 72
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ‏:‏ تَعَلَّمُوا أَنْسَابَكُمْ، ثُمَّ صِلُوا أَرْحَامَكُمْ، وَاللَّهِ إِنَّهُ لِيَكُونُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ أَخِيهِ الشَّيْءُ، وَلَوْ يَعْلَمُ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ مِنْ دَاخِلَةِ الرَّحِمِ، لَأَوْزَعَهُ ذَلِكَ عَنِ انْتِهَاكِهِ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
جبیر بن مطعم کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو برسر منبر یہ کہتے ہوئے سنا: تم اپنے نسبوں کو سیکھو اور معلوم کرو، پھر اپنی رشتہ داریوں کو ملاؤ۔ اللہ کی قسم! بسا اوقات دو آدمیوں کے درمیان کوئی جھگڑا یا رنجش ہوتی ہے، اگر اسے علم ہو کہ اس کی قرابت داری ہے تو وہ اسے تعلقات بگاڑنے سے روک دے گی۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب صلة الرحم / حدیث: 72
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن الإسناد و صح مرفوعًا
تخریج حدیث «حسن الإسناد و صح مرفوعًا : الصحيحة : 277 - أخرجه المروزي فى البر و الصلة : 119 و ابن وهب فى الجامع : 15»
حدیث نمبر: 73
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ‏:‏ احْفَظُوا أَنْسَابَكُمْ، تَصَلُوا أَرْحَامَكُمْ، فَإِنَّهُ لاَ بُعْدَ بِالرَّحِمِ إِذَا قَرُبَتْ، وَإِنْ كَانَتْ بَعِيدَةً، وَلاَ قُرْبَ بِهَا إِذَا بَعُدَتْ، وَإِنْ كَانَتْ قَرِيبَةً، وَكُلُّ رَحِمٍ آتِيَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمَامَ صَاحِبِهَا، تَشْهَدُ لَهُ بِصِلَةٍ إِنْ كَانَ وَصَلَهَا، وَعَلَيْهِ بِقَطِيعَةٍ إِنْ كَانَ قَطَعَهَا‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: اپنے نسبوں کی حفاظت کرو تاکہ تم رشتہ داری کر سکو، کیونکہ کوئی بھی رشتہ داری خواہ دور ہی کی ہو صلہ رحمی سے دور کی نہیں رہتی۔ اور کوئی بھی تعلق داری خواہ کتنی قریب کی ہو، اگر اسے جوڑا نہ جائے تو وہ دور ہو جاتی ہے، اور ہر رحم قیامت کے دن آگے آگے آئے گا اور صلہ رحمی کرنے والے کی صلہ رحمی کی گواہی دے گا، اور جس نے قطع رحمی کی ہو گی اس کے خلاف قطع رحمی کی گواہی دے گا۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب صلة الرحم / حدیث: 73
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد و صح مرفوعًا
تخریج حدیث «صحيح الإسناد و صح مرفوعًا : أخرجه الطيالسي : 2757 و الحاكم : 178/4 و البيهقي فى الشعب : 7570 ، عن ابن عباس مرفوعًا الصحيحة : 277»