حدیث نمبر: 52
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونَ، وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ، وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ، قَالَ: ”لَئِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ كَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ، وَلاَ يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ عزیز ہیں، میں ان سے تعلق جوڑتا ہوں جبکہ وہ قطع تعلقی کرتے ہیں، میں ان سے حسنِ سلوک کرتا ہوں اور وہ مجھ سے بدسلوکی کرتے ہیں۔ وہ مجھ سے جاہلانہ طرز اختیار کرتے ہیں تو بھی میں تحمل اور بردباری سے کام لیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کی باتیں سن کر) فرمایا: ”اگر واقعی ایسے ہے جیسے تو کہہ رہا ہے تو تو ان کے منہ میں خاک ڈال رہا ہے، یعنی وہ خود ذلیل ہوں گے اور جب تک تو اپنی عادت پر قائم رہے گا اللہ کی مدد تیرے شامل حال رہے گی۔“
حدیث نمبر: 53
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا الرَّدَّادِ اللَّيْثِيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا الرَّحْمَنُ، وَأَنَا خَلَقْتُ الرَّحِمَ، وَاشْتَقَقْتُ لَهَا مِنَ اسْمِي، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ، وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ عزوجل کا فرمان ہے: میں رحمان ہوں اور میں ہی نے رحم کو پیدا کیا ہے، اور میں نے اپنے نام (رحمان) کی نسبت سے اس کو رحم کا نام دیا ہے، لہٰذا جو اسے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا، اور جو اس کو توڑے گا میں اس کو توڑوں گا۔“
حدیث نمبر: 54
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فِي الْوَهْطِ يَعْنِي أَرْضًا لَهُ بِالطَّائِفِ، فَقَالَ: عَطَفَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَهُ فَقَالَ: ”الرَّحِمُ شُجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ، مَنْ يَصِلْهَا يَصِلْهُ، وَمَنْ يَقْطَعْهَا يَقْطَعْهُ، لَهَا لِسَانٌ طَلْقٌ ذَلْقٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابو عنبس رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس طائف میں واقع ان کی زمین میں گیا تو انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کو دوہرا کر کے اس کے ذریعے اشارہ کر کے فرمایا: ”رحم رحمان سے مشتق ہے، جو اسے ملائے گا اللہ اسے (اپنے ساتھ) ملائے گا، اور جو قطع رحمی کرے گا رحمان اسے اپنے سے کاٹ دے گا۔ روز قیامت اس کی فصیح و بلیغ زبان ہو گی (جس سے وہ اللہ کے حضور دعویٰ کرے گا)۔“
حدیث نمبر: 55
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”الرَّحِمُ شُجْنَةٌ مِنَ اللهِ، مَنْ وَصَلَهَا وَصَلَهُ اللَّهُ، وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعَهُ اللَّهُ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحم اللہ سے لیا گیا ہے، جو اس (رحم) کو ملائے گا، اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا، اور جو اسے کاٹے گا اللہ اسے کاٹ دے گا۔“