حدیث نمبر: 5
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: ”أُمَّكَ“، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ”أُمَّكَ“، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ”أُمَّكَ“، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ”أَبَاكَ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! میں کس سے حسنِ سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں سے۔“ (سائل نے) کہا: پھر کس سے حسنِ سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں سے۔“ اس نے کہا: پھر کس کے ساتھ حسنِ سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں سے۔“ اس نے کہا: پھر کس کے ساتھ حسنِ سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے باپ سے۔“
حدیث نمبر: 6
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللّٰهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَتَى رَجُلٌ نَبِيَّ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا تَأْمُرُنِي؟ فَقَالَ: ”بِرَّ أُمَّكَ“، ثُمَّ عَادَ، فَقَالَ: ”بِرَّ أُمَّكَ“، ثُمَّ عَادَ الرَّابِعَةَ، فَقَالَ: ”بِرَّ أُمَّكَ“، ثُمَّ عَادَ الْخَامِسَةَ، فَقَالَ: ”بِرَّ أَبَاكَ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں سے حسنِ سلوک کر۔“ اس نے دوبارہ وہی سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کر۔“ اس نے پھر وہی سوال دہرایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کر۔“ پھر اس نے چوتھی مرتبہ پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں سے حسنِ سلوک کرو۔“ اس نے پانچویں مرتبہ پھر کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے باپ سے حسنِ سلوک کر۔“