کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: انگوٹھی میں نگینہ لگانا درست ہے۔
حدیث نمبر: 5869
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ : سُئِلَ أَنَسٌ هَلِ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا ؟ قَالَ : أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ ، قَالَ : " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی ، کہا ہم کو حمید نے خبر دی ، کہا انہوں نے کہ انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا` کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی ؟ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز آدھی رات میں پڑھائی ۔ پھر چہرہ مبارک ہماری طرف کیا ، جیسے اب بھی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں ۔ فرمایا کہ بہت سے لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ہوں گے لیکن تم اس وقت بھی نماز میں ہو جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہے ہو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب اللباس / حدیث: 5869
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 5870
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدًا ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ خَاتَمُهُ مِنْ فِضَّةٍ وَكَانَ فَصُّهُ مِنْهُ " ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، سَمِعَ أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا داود راز
´ہم سے اسحاق نے بیان کیا ، کہا ہم کو معتمر نے خبر دی ، کہا کہ میں نے حمید سے سنا ، وہ انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی اسی کا تھا اور یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا کہ مجھ سے حمید نے بیان کیا ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب اللباس / حدیث: 5870
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»