حدیث نمبر: 5862
وَقَالَ اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ مَخْرَمَةَ ، قَالَ لَهُ : يَا بُنَيِّ ، إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَتْ عَلَيْهِ أَقْبِيَةٌ فَهُوَ يَقْسِمُهَا ، فَاذْهَبْ بِنَا إِلَيْهِ ، فَذَهَبْنَا فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلِهِ ، فَقَالَ لِي : يَا بُنَيِّ ادْعُ لِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْظَمْتُ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ : أَدْعُو لَكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا بُنَيِّ إِنَّهُ لَيْسَ بِجَبَّارٍ ، فَدَعَوْتُهُ فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْ دِيبَاجٍ مُزَرَّرٌ بِالذَّهَبِ ، فَقَالَ : " يَا مَخْرَمَةُ هَذَا خَبَأْنَاهُ لَكَ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ "
مولانا داود راز
´اور لیث بن سعد نے کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا ، ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہ ان سے ان کے والد مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا بیٹے مجھے معلوم ہوا ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قبائیں آئی ہیں اور آپ انہیں تقسیم فرما رہے ہیں ۔ ہمیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو ۔ چنانچہ ہم گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے گھر ہی میں پایا ۔ والد نے مجھ سے کہا بیٹے میرا نام لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلاؤ ۔ میں نے اسے بہت بڑی توہین آمیز بات سمجھا ( کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے والد کے لیے بلا کر تکلیف دوں ) چنانچہ میں نے والد صاحب سے کہا کہ میں آپ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلاؤں ! انہوں نے کہا کہ بیٹے ہاں ۔ آپ کوئی جابر صفت انسان نہیں ہیں ۔ چنانچہ میں نے بلایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر دیبا کی ایک قباء تھی جس میں سونے کی گھنڈیاں لگی ہوئی تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مخرمہ اسے میں نے تمہارے لیے چھپا کے رکھا ہوا تھا ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قباء انہیں عنایت فرما دی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب اللباس / حدیث: 5862
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»