مرکزی مواد پر جائیں
15 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: لڑائی میں اون کا جبہ پہننا۔
حدیث نمبر: 5799
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي سَفَرٍ ، فَقَالَ : أَمَعَكَ مَاءٌ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَمَشَى حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ الْإِدَاوَةَ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْهَا حَتَّى أَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ ، فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ ، فَقَالَ : دَعْهُمَا ، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ " ، فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا .
مولانا داود راز
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا ، ان سے عامر نے ، ان سے عروہ بن مغیرہ نے اور ان سے ان کے والد مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں ایک رات سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ نے دریافت فرمایا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور چلتے رہے یہاں تک کہ رات کی تاریکی میں آپ چھپ گئے پھر واپس تشریف لائے تو میں نے برتن کا پانی آپ کو استعمال کرایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ دھویا ، ہاتھ دھوئے آپ اون کا جبہ پہنے ہوئے تھے جس کی آستین چڑھانی آپ کے لیے دشوار تھی چنانچہ آپ نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکالے اور بازوؤں کو ( کہنیوں تک ) دھویا ۔ پھر سر پر مسح کیا پھر میں بڑھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتار دوں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رہنے دو میں نے طہارت کے بعد انہیں پہنا تھا چنانچہ آپ نے ان پر مسح کیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب اللباس / حدیث: 5799
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔