مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: الو کو منحوس سمجھنا لغو ہے۔
حدیث نمبر: 5757
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن حکم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو ابوحصین ( عثمان بن عاصم اسدی ) نے خبر دی ، انہیں ابوصالح ذکوان نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” چھوت لگ جانا بدشگونی یا الو یا صفر کی نحوست یہ کوئی چیز نہیں ہے ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الطب / حدیث: 5757
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔