حدیث نمبر: Q5706
فِيهِ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ.
مولانا داود راز
اس باب میں ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے ایک حدیث بھی مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 5706
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنَهَا ، فَذَكَرُوهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَكَرُوا لَهُ الْكُحْلَ وَأَنَّهُ يُخَافُ عَلَى عَيْنِهَا ، فَقَالَ " لَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي أَحْلَاسِهَا فِي شَرِّ بَيْتِهَا ، فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بَعْرَةً فَهَلَّا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعیدقطان نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھ سے حمید بن نافع نے بیان کیا ، ان سے زینب رضی اللہ عنہا نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ` ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہو گیا ( زمانہ عدت میں ) اس عورت کی آنکھ دکھنے لگی تو لوگوں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ۔ ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سرمہ کا ذکر کیا اور یہ کہ ( اگر سرمہ آنکھ میں نہ لگایا تو ) ان کی آنکھ کے متعلق خطرہ ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( زمانہ جاہلیت میں ) عدت گزارنے والی تم عورتوں کے اپنے گھر میں سب سے بدتر کپڑے میں پڑا رہنا پڑتا تھا یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) اپنے کپڑوں میں گھر کے سب سے بدتر حصہ میں پڑا رہنا پڑتا تھا پھر جب کوئی کتا گزرتا تو اس پر وہ مینگنی پھینک کر مارتی ( تب عدت سے باہر ہوتی ) پس چار مہینے دس دن تک سرمہ نہ لگاؤ ۔