کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: بلاؤں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے اس کے بعد درجہ بدرجہ دوسرے اللہ کے بندوں کی ہوتی رہتی ہے۔
حدیث نمبر: 5648
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا ، قَالَ : أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ ، قُلْتُ : ذَلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ ، قَالَ : أَجَلْ ذَلِكَ كَذَلِكَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبدان نے بیان کیا ، ان سے ابوحمزہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابراہیم تیمی نے ، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کو شدید بخار تھا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کو بہت تیز بخار ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مجھے تنہا ایسا بخار ہوتا ہے جتنا تم میں کے دو آدمیوں کو ہوتا ہے میں نے عرض کیا یہ اس لیے کہ آپ کا ثواب بھی دوگنا ہے ؟ فرمایا کہ ہاں یہی بات ہے ، مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے کانٹا ہو یا اس سے زیادہ تکلیف دینے والی کوئی چیز تو جیسے درخت اپنے پتوں کو گراتا ہے اسی طرح اللہ پاک اس تکلیف کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے ۔